قطر کے بعد ترکی نے بھی اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کی تردید کر دی

عوام جھوٹی خبروں اور گمراہ کن الزامات پر یقین نہ کریں،سوشل میڈیا پر بیان

October 29, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

انقرہ: قطر کے بعد ترکی نے بھی اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ترکی کے حکومتی سینٹر برائے کاؤنٹر ڈس انفارمیشن (غلط معلومات کے تدارک کے لیے بنائے گئے حکومتی مرکز) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ بعض بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والے یہ دعوے کہ ’ترکی نے اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کی‘ مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔

بیان میں مزید لہا گیا ہے کہ یہ الزامات عوامی رائے کو متاثر کرنے کے مقصد سے چلائی جانے والی ایک دانستہ اور کھلی گمراہ کن مہم کا حصہ ہیں۔

ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان جھوٹی خبروں اور گمراہ کن الزامات پر یقین نہ کریں، جن کا مقصد عوام کو غلط سمت میں لے جانا ہے۔

ترکی کا یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی داخلی سلامتی کی ایجنسی شن بیت کو ان الزامات کی تحقیقات سونپی گئی ہیں کہ ترکی اور قطر سے اسرائیل میں رقوم منتقل کی گئیں تاکہ عرب ووٹروں کے فیصلوں پر اثر ڈالا جا سکے۔