شام کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر غور

علاقائی سلامتی کا اہم فورم، بات چیت کا آغاز کر دیا گیا، مشترکہ دفاعی نظام ناگزیر ہے۔

October 31, 2026 · اہم خبریں
شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی منامہ ڈائیلاگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے

شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی منامہ ڈائیلاگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کیلیے ایک اور مسلم ملک شام نے سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔ بحرین میں منعقدہ منامہ ڈائیلاگ کے دوران شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے اپنے ایک اہم بیان میں تصدیق کی کہ اس حوالے سے باضابطہ بات چیت جاری ہے اور شام اس دفاعی اتحاد کا حصہ بننے کا خواہاں ہے۔

شامی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں خطے کو پہلے سے کہیں زیادہ ایک مضبوط مشترکہ دفاعی نظام اور مربوط دفاعی صلاحیتوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شام علاقائی سلامتی کا ایک بنیادی حصہ ہے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کیلیے اٹھائے جانے والے ہر مشترکہ اقدام اور کوشش کی بھرپور حمایت کرے گا۔

اس موقع پر شامی وزیر خارجہ نے یمن کی خودمختاری بحال کرنے کی جاری کوششوں کی بھی پرزور تائید کی۔ انہوں نے اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی جارحیت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 2 سال کے دوران اسرائیل نے شام پر 1000 سے زائد فضائی و زمینی حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں درجنوں بے گناہ شہری لقمہ اجل بنے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو ماضی کے معاہدوں پر عمل درآمد کرنے کا پابند بنایا جائے تاکہ وہ اپنی سابقہ پوزیشن پر واپس جائے، کیونکہ گولان کی پہاڑیاں اٹل طور پر شام کا حصہ ہیں اور اس حوالے سے سلامتی کونسل کی قراردادیں انتہائی واضح ہیں۔