امریکا سے مذاکرات کی نوعیت ایران کی شرائط تسلیم ہونے سے مشروط ہے، عباس عراقچی

اہم پیشرفت، ایرانی وزیر خارجہ کا بیان، ثالث ممالک مشاورت کر رہے ہیں

October 31, 2026 · اہم خبریں
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

تہران (نیوز ڈیسک) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی نوعیت کا فیصلہ تہران کی شرائط تسلیم کیے جانے کے بعد ہی کیا جائے گا۔ ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ قطر اور پاکستان جیسے ثالث ممالک دونوں جانب کے مطالبات پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ جوہری معاملے پر موصول ہونے والی تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

عباس عراقچی نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے خط کے حوالے سے بتایا کہ اس پیغام کا اعلیٰ سطح کے اجلاس میں تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے وسیع تر مذاکرات کی کوشش ایک مثبت قدم ہے تاہم موجودہ حالات میں امریکی حکام سے ملاقات یا ملاقات کا کوئی ارادہ زیرِ غور نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس خط کا مقصد اختلافات پیدا کرنا ہے تو یہ واشنگٹن کی ایک اور غلطی ہوگی۔

دستاویزات اور دستیاب رپورٹس کے مطابق ایران کی بنیادی شرائط میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد عائد کردہ پابندیوں کا خاتمہ، تیل کی تجارت پر عائد پابندیوں میں چھوٹ، منجمد اثاثوں کی بحالی اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں کمی لانا شامل ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے تصدیق کی کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ایران کی تجویز واضح ہے اور اس پر عمل درآمد سے ہی مذاکرات کی راہ ہموار ہوگی۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک ٹاؤن ہال کے دوران مؤقف اختیار کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری تنازع کو ہمیشہ جاری رہنے والی جنگ میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔ واشنگٹن کے مطابق اس بات چیت کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا اور تنازع کے حل کے لیے ایک نیا فریم ورک طے کرنا ہے۔