غزہ کی تباہی عالمی نظام کے اخلاقی دعووں کا امتحان ہے، حافظ نعیم الرحمان

غزہ میں تباہی، بھوک اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی نے عالمی نظام کے اخلاقی اصولوں پر کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

November 1, 2026 · قومی
غزہ کی تباہی عالمی نظام کے اخلاقی دعووں کا امتحان ہے، حافظ نعیم الرحمان

غزہ کی تباہی عالمی نظام کے اخلاقی دعووں کا امتحان ہے، حافظ نعیم الرحمان

استنبول: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ غزہ میں تباہی، بھوک اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی نے عالمی نظام کے اخلاقی اصولوں پر کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

ترکیہ کے پارلیمنٹیرینز کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیے گئے استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ دنیا کو طاقت اور وسائل کی کمی نہیں بلکہ اصولوں پر قائم رہنے والی دیانت دار قیادت کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق معاشی عدم مساوات، جنگیں اور عالمی قوانین کا مختلف انداز میں اطلاق اس وقت دنیا کے بڑے مسائل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کا مستقبل مایوسی اور تقسیم میں نہیں بلکہ علم، جدوجہد اور عملی اقدامات میں پوشیدہ ہے۔ اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ تمام لوگ ایک جیسے ہوں، بلکہ بنیادی اصولوں پر اتفاق کرتے ہوئے مشترکہ جدوجہد کرنا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان ایسی دنیا کا خواہاں ہے جہاں فلسطین آزاد ہو اور کشمیریوں کو انصاف ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ شدید مشکلات کے باوجود اہل غزہ کی ثابت قدمی انسانی وقار اور امید کی روشن مثال ہے۔

انہوں نے فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قانونی بائیکاٹ، انسانی امداد اور سفارتی کوششوں کے ذریعے ان کا ساتھ دیا جائے، جبکہ فلسطین کے تعلیمی، طبی اور امدادی اداروں کی معاونت بھی بلا تعطل جاری رہنی چاہیے۔

امیر جماعت اسلامی نے نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل میڈیا اور قابل تجدید توانائی جیسے شعبوں میں مہارت حاصل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے نوجوانوں کے درمیان تعلیم، تجارت، ٹیکنالوجی اور امدادی سرگرمیوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے۔

تقریب سے ترک پارلیمنٹیرینز، حکمران جماعت آق پارٹی کے رہنماؤں اور انسان وقف کے سربراہ نے بھی خطاب کیا۔