شاہ محمود قریشی جیل میں غش کھا کر گر پڑے ، جسم پر چوٹیں
شاہ محمود قریشی نے اپنے اہلِ خانہ اور قانونی ٹیم کو واقعے سے آگاہ کیا ،فوری سی ٹی اسکین اور ضمانت کا مطالبہ
فائل فوٹو
لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کوٹ لکھپت جیل میں دورانِ قید چہل قدمی کے دوران اچانک بے ہوش ہو کر گر پڑے، جس کے نتیجے میں ان کے جسم پر چوٹیں آئی ہیں۔
کوٹ لکھپت جیل میں مقدمے کی سماعت کے دوران شاہ محمود قریشی نے اپنے اہلِ خانہ اور قانونی ٹیم کو اس واقعے سے آگاہ کیا۔ خاندانی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی سینئر رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کے طبی مشورے کی روشنی میں شاہ محمود قریشی کے فوری سی ٹی اسکین، مکمل طبی معائنے اور مناسب علاج کے لیے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں باقاعدہ درخواست دائر کی جا رہی ہے۔
آج کوٹ لکھپت جیل میں دورانِ سماعت شاہ محمود قریشی صاحب نے مجھے اور اپنے اہلِ خانہ کو بتایا کہ جیل میں اپنی بیرک کے احاطے میں چہل قدمی کے دوران اچانک بے ہوش ہو کر گر پڑے، جس سے ان کے جسم پر چوٹیں بھی آئیں۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کے مشورے پر ہم ان کے فوری سی ٹی اسکین اور مناسب طبی…
— Taimur Malik (@taimur_malik) November 4, 2026
اہلِ خانہ اور وکلا کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی کو کسی بھی مقدمے میں سزا نہیں ہوئی، اس کے باوجود وہ تین سال سے زائد عرصے سے قید میں ہیں۔ لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں ان کی ضمانت کی دو درخواستیں تاحال زیرِ التوا ہیں۔
قانونی ٹیم کا موقف ہے کہ اسی نوعیت کے دیگر مقدمات میں ملزمان کی بریت، شاہ محمود قریشی کی عمر، بگڑتی ہوئی صحت اور طویل بلاجواز قید کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں میرٹ پر فوراً ضمانت رہا کیا جانا چاہیے۔ اہلِ خانہ نے سوال اٹھایا ہے کہ بغیر کسی جرم و سزا کے ایک شہری کو کب تک قید رکھا جائے گا؟ انصاف میں مسلسل تاخیر خود ناانصافی کے مترادف ہے۔