دریائے سندھ کا پانی مضرِ صحت قرار،شہریوں کو پینے سے گریز کی ہدایت

دریائے سندھ میں تحلیل شدہ ٹھوس مادوں (ٹی ڈی ایس) کی مقدار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث پانی نقصان دہ ہو سکتا ہے، سپرنٹنڈنگ انجینئر بگھیاڑ سرکل حیدرآباد کو خط

November 5, 2026 · قومی
دریائے سندھ کا پانی مضرِ صحت قرار،شہریوں کو پینے سے گریز کی ہدایت

دریائے سندھ کا پانی مضرِ صحت قرار،شہریوں کو پینے سے گریز کی ہدایت

حیدرآباد: دریائے سندھ کے پانی میں مضرِ صحت اجزا کی مقدار بڑھنے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد جامشورو، حیدرآباد اور کوٹری کے شہریوں کو دریا کا پانی پینے کے لیے استعمال نہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

انجینئر کوٹری بیراج نے اس حوالے سے سپرنٹنڈنگ انجینئر بگھیاڑ سرکل حیدرآباد کو خط ارسال کیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ دریائے سندھ میں تحلیل شدہ ٹھوس مادوں (ٹی ڈی ایس) کی مقدار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث پانی انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

خط کے مطابق ستمبر میں پانی میں ٹی ڈی ایس کی مقدار 660 ملی گرام فی لیٹر ریکارڈ کی گئی تھی، جو یکم اکتوبر کو بڑھ کر 940 ملی گرام فی لیٹر تک پہنچ گئی۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ آلودہ پانی کے استعمال سے گردوں، جگر، جلد اور معدے سے متعلق بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال سنگین انسانی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔

انجینئر کوٹری بیراج نے مطالبہ کیا ہے کہ منچھر جھیل اور مٹیاری شوگر مل کا آلودہ پانی دریائے سندھ میں شامل ہونے سے روکا جائے، جبکہ سکھر بیراج سے کوٹری کی جانب فوری طور پر اضافی میٹھا پانی چھوڑا جائے۔