اسرائیلی الیکشن کمیشن نے نیتن یاہو کے دھاندلی الزامات مسترد کر دیے

انتخابات میں نیتن یاہو کے انتہائی دائیں بازو پر مشتمل اتحاد کو 53 نشستیں ملیں، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے 67 نشستیں حاصل کیں

November 5, 2026 · بام دنیا
اسرائیلی الیکشن کمیشن نے نیتن یاہو کے دھاندلی الزامات مسترد کر دیے

اسرائیلی الیکشن کمیشن نے نیتن یاہو کے دھاندلی الزامات مسترد کر دیے

اسرائیلی الیکشن کمیشن نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے حتمی نتائج کی توثیق کر دی ہے، جس کے مطابق وزیرِاعظم نیتن یاہو کا حکومتی اتحاد پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق گزشتہ ہفتے ہونے والے انتخابات میں نیتن یاہو کے انتہائی دائیں بازو پر مشتمل اتحاد کو 53 نشستیں ملیں، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے 67 نشستیں حاصل کیں۔ عرب جماعتوں کے حصے میں 19 نشستیں آئیں۔

الیکشن کمیشن نے نیتن یاہو کی جانب سے بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی اور بیرونی مداخلت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات کے دوران ایسی کوئی بے ضابطگی سامنے نہیں آئی جس سے انتخابی عمل کی شفافیت یا نتائج متاثر ہوئے ہوں۔

مرکزی الیکشن کمیٹی کے حکام نے بدھ کے روز انتخابات کے حتمی نتائج صدر اسحاق ہرزوگ کے حوالے کر دیے۔ کمیٹی کے سربراہ نوعم سولبرگ کا کہنا تھا کہ بعض معاملات پر تحقیقات جاری ہیں، تاہم ان کی بنیاد پر پورے انتخابی عمل کو مشکوک قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی نتائج کے اعلان میں تاخیر کا کوئی جواز بنتا ہے۔

دوسری جانب نیتن یاہو کے سیاسی حریف گادی آئزن کوٹ نے الزام عائد کیا ہے کہ اقتدار برقرار رکھنے کے لیے نیتن یاہو درست ووٹوں کو مشکوک بنا رہے ہیں اور فلسطینی نژاد اسرائیلی شہریوں کی قیادت میں قائم جماعتوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کو استعمال کر رہے ہیں۔

گادی آئزن کوٹ کے مطابق نیتن یاہو کی یہ کوششیں جمہوری نظام پر منظم حملے کے مترادف ہیں۔