خیبرپختونخوا دوبارہ آزمائے ہوئے لوگوں کے حوالے کردیا گیا،راجا ناصر عباس
اپوزیشن لیڈر کا خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور سیاسی فیصلوں پر اظہارِ تشویش
خیبرپختونخوا کو دوبارہ آزمائے ہوئے لوگوں کے حوالے کردیا گیا، راجا ناصر عباس
اسلام آباد: سینٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجا ناصر عباس نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کو دوبارہ آزمائے ہوئے سیاسی لوگوں کے حوالے کردیا گیا ہے، جن لوگوں نے نظام کو کمزور کیا، کیا وہ صوبے میں امن قائم کرسکیں گے؟ حکومت عوام کی خدمت کرنے کے بجائے ان سے لڑ رہی ہے۔
پارلیمنٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے راجا ناصر عباس نے کہا کہ ہمارے ملک میں بھی چھوٹے چھوٹے ٹرمپ موجود ہیں، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو خوف کی وجہ سے گرایا گیا اور آج بانی پی ٹی آئی عمران خان ان کے گلے کی ہڈی بن گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کے خلاف کیا کیا ظلم نہیں کیے گئے، لوگوں کو اٹھایا گیا اور خواتین کو قیدی بنایا گیا۔ آخر میں خیبرپختونخوا میں ایک ہی حکومت باقی تھی، وہاں بھی گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔
رہنما نے امریکا کی افغانستان اور عراق میں مداخلت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے افغانستان میں 2.2 ٹریلین ڈالر سے زائد خرچ کیے، لیکن امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ خرچ کرنے کے باوجود وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکا۔ امریکا نے عراق میں بھی جھوٹ کی بنیاد پر طاقت کا استعمال کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ غرور، تکبر، تعصب اور لالچ غلط فیصلوں اور تباہی کا سبب بنتے ہیں، جبکہ طاقت اور دولت کا غرور قوموں کو غلط اندازے لگانے پر مجبور کرتا ہے۔ پاکستان میں بھی طاقت کے غلط استعمال اور غلط اندازوں کی مثالیں موجود ہیں۔
علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ پاکستان کے حکمران طبقے نے خود کو اشرافیہ سمجھ کر عوامی مینڈیٹ کو نظر انداز کیا۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے کا فیصلہ بھی غلط اندازے کا نتیجہ تھا، جبکہ لالچ، خوف، تعصب اور تکبر نے پاکستان میں غلط سیاسی فیصلوں کو جنم دیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا کے کہنے پر عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے کا فیصلہ بھی ایک غلط سیاسی اندازہ ثابت ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں 25 سال سے امن قائم نہیں ہوسکا اور اب خیبرپختونخوا میں بھی بدامنی بڑھ رہی ہے۔ صوبے کو دوبارہ آزمائے ہوئے سیاسی لوگوں کے حوالے کردیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جن لوگوں نے نظام کو کمزور کیا، کیا وہ خیبرپختونخوا میں امن قائم کریں گے؟ کیا یہ لوگ صوبے میں دہشت گردی اور وارداتوں کا خاتمہ کرسکیں گے؟
انہوں نے کہا کہ عوام کا مینڈیٹ چھین کر ان کے فیصلے کو مسترد کیا گیا ہے۔ موجودہ نظام کی سیاسی لڑائی بھی عوام کے ساتھ ہے اور حکومت عوام کی خدمت کے بجائے ان سے لڑ رہی ہے۔
راجا ناصر عباس کے مطابق سیاسی، معاشی اور طاقت کے استعمال کی لڑائی عوام کے خلاف لڑی جارہی ہے، موجودہ نظام سیاسی، معاشی اور سماجی طاقت کا غلط استعمال کررہا ہے، جبکہ پاکستان اندرونی اور بیرونی دونوں سطح پر بحرانوں کا شکار ہے۔