ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا کی رہائش گاہ ڈی سیل نہ کرنے پر پشاور ہائی کورٹ برہم
عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے پر عدالت کا اظہارِ برہمی، متعلقہ افسر طلب
فائل فوٹو
پشاور: پشاور ہائی کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی ثریا بی بی کی سرکاری رہائش گاہ عدالتی احکامات کے باوجود ڈی سیل نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکریٹری ایڈمنسٹریشن کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔
نجی ٹی وی کے مطابق کیس کی سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس انعام اللہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزارہ کے وکلا یاسر خٹک اور سید رحمت علی شاہ، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کا نمائندہ عدالت میں پیش ہوئے۔
درخواست گزارہ کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد ڈپٹی اسپیکر کی سرکاری رہائش گاہ کو سیل کردیا گیا تھا، جس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا گیا اور گھر ڈی سیل کرنے کے احکامات جاری ہوئے، تاہم انتظامیہ نے عدالتی حکم کے باوجود رہائش گاہ ڈی سیل نہیں کی۔
وکلاء کے مطابق اس صورتحال کے باعث ڈپٹی اسپیکر تاحال اپنے گھر نہیں جاسکتیں اور نہ ہی ان کے بچے گھر سے باہر نکل سکتے ہیں۔
ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ میں نیا عملہ آیا ہے اور دوبارہ نظام شروع کرنے میں وقت لگ رہا ہے۔
اس موقع پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے مزید وقت دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ وہ رپورٹ جمع کرائیں گے۔
جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے گھر ڈی سیل کرنے کا حکم دیا ہے تو اس پر عمل ہونا چاہیے، کیا آپ لوگ عدالتی احکامات کی تعمیل نہیں کرتے؟
عدالت نے سیکریٹری ایڈمنسٹریشن کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 10 نومبر تک ملتوی کردی۔