آٹے کے نرخوں میں کمی کا حکومتی دعویٰ کھوکھلا نکلا

کراچی کے شہری تاحال 165 سے 180 روپے فی کلو تک خریدنے پر مجبور- سرکاری خریداری انتہائی کم ہونے کے سبب گندم کا بیشتر اسٹاک ذخیرہ اندوز مافیا نے اٹھا لیا تھا

November 5, 2026 · امت خاص

ارشاد کھوکھر:

ملک بھر میں آٹے کے نرخوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ زرعی اعتبار سے ملک کے دوسرے بڑے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں آٹے کے نرخ سب سے زیادہ کیوں ہیں؟

ان حقائق کو جاننا ضروری ہے کہ ایسا کیوں ہے اور اس کے پیچھے کون سے مصنوعی راز چھپے ہوئے ہیں۔ دو روز قبل سندھ کابینہ نے وفاقی حکومت کے اصرار پر فی کلو گرام سرکاری گندم کی قیمت اجرا میں ساڑھے 12 روپے کی کمی کر دی ہے اور حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ اس سے فی کلو گرام آٹے کے نرخوں میں 15 روپے کی کمی ہوگی۔ لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں سرکاری گندم کے اجرا کے بعد فی کلو گرام آٹے کے نرخوں میں 5 سے 7 روپے تک کی کمی ہو جائے تو یہ بھی بڑی بات ہوگی۔

علاوہ ازیں سرکاری شعبے میں درآمد ہونے والی گندم پہنچنا شروع ہو گئی ہے جس کے بعد فی کلو گرام آٹے کی قیمتوں میں صرف 5 روپے کی کمی ہوئی ہے۔ تاہم پھر بھی کراچی کے صارفین فی کلو گرام آٹا 165 روپے سے 180 روپے تک خریدنے پر مجبور ہیں۔

رواں سیزن کے دوران ضرورت کے مقابلے میں گندام کی پیداوار کم ہونے اور حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث سرکاری شعبے میں گندم کی خریداری نہ ہونے کے برابر ہونے کے باعث بیشر گندم کے ذخائر ذخیرہ اندوز مافیا کے ہتھے چڑھ گئے۔ جنہوں نے اپریل کے مہینے سے ہی اوپن مارکیٹ میں گندم کے نرخ بڑھانا شروع کر دیئے تھے جس کے باعث اس حساب سے آٹے کے نرخ بھی بڑھتے ہی گئے۔

10 اکتوبر کو فی کلو گرام ڈھائی نمبر آٹے کے ایکس مل کے نرخ 161 روپے اور فائن آٹے کے ایکس مل نرخ 176 روپے ہو گئے تھے، ایسی صورتحال میں ریٹیلرز مافیا بھی اپنا کام دکھاتی ہیں جس کے باعث عوام کو فی کلو گرام آٹا 170 روپے سے 190 روپے تک مل رہا تھا۔ اس کے بعد جب گندم کی ذخیرہ اندوز مافیا نے دیکھا کہ سرکاری شعبے میں درآمد ہونے والی گندم کے جہاز چل پڑے ہیں تو انہوں نے اوپن مارکیٹ میں فی کلو گرام گندم کے نرخوں میں 5 روپے کی کمی کر دی۔ جس کے نتیجے میں فلور مل مالکان نے 23 اکتوبر کو فی کلو گرام آٹے کے نرخوں میں 5 روپے کی کمی کی۔ لیکن آٹے کے نرخ جب آسمان کو چھو رہے ہو تو وہ یہ 5 روپے کی کمی کوئی معنیٰ نہیں رکھتی۔

اس وقت بھی کراچی کے صارفین کو فی کلو گرام آٹا 165 روپے سے 180 روپے تک مل رہا ہے۔ اس کے برعکس پنجاب میں اگر دیکھا جائے تو کراچی کے مقابلے میں فی کلو گرام آٹے کے نرخ 10 سے 15 روپے کم ہیں۔ جہاں تک کے پی کے، کی بات ہے تو مذکورہ صوبے میں گندم کی پیداوار نہیں ہوتی لیکن سندھ میں پنجاب کے بعد گندم کی پیداوار سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے باوجود بھی کراچی میں آٹے کے نرخوں میں اضافے کے پیچھے مختلف مافیاز کا ہاتھ ہے۔

کراچی میں آٹے کے نرخ زیادہ ہونے کی ایک وجہ گندم کی ذخیرہ اندوز مافیا کے ہتھے چڑھ جانا تو ہے ہی لیکن اس کے اور بھی اسباب ہیں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب ایسی صورتحال ہو تو محکمہ خوراک ستمبر، اگست سے ہی سرکاری گندم کا اجرا شروع کر دیتا ہے لیکن اس مرتبہ ایسا اس لئے نہیں ہو سکا کہ محکمہ خوراک کے پاس ریکارڈ میں تقریباً 6 لاکھ ٹن گندم موجود ہے جن میں سے خود محکمہ خوراک کے حقام یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ان میں سے 3 سے 4 لاکھ ٹن گندم کے ذخائر کھانے کے قابل ہی نہیں۔

باقی تقریباً ایک لاکھ 93 ہزار پرانی فصل کی گندم کے ذخائر بہتر ہیں اور محکمہ خوراک نے 20 اکتوبر کو مذکورہ ذخائر میں سے ایک لاکھ 72 ہزار ٹن گندم کے ذخائر فلور ملوں اور آٹا چکیوں کے لئے مختص کی لیکن فلور مل مالکان نے یہ کہہ کر مذکورہ گندم اٹھانے سے انکار کر دیا کہ ان میں زیادہ تر گلی سڑی گندم ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کا چرچہ گزشتہ منگل کو ہونے والے سندھ کابینہ کے اجلاس میں بھی ہوا جس پر سندھ کابینہ نے یہ فیصلہ کیا کہ مذکورہ ایک لاکھ 93 ہزار ٹن کے گندم کے ذخائر کی ویریفکیشن کی جائے کہ ان میں سے کتنی گندم خراب ہے اور کتنی گندم کھانے کے قابل ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ خوراک کے پاس صاف ستھری گندم کے مناسب ذخائر ہوتے اور گندم کا اجرا ایک دو ماہ پہلے ہی شروع ہو جاتا تو شاید ایسی صورتحال نہیں ہوتی۔ کراچی میں آٹے کے نرخ زیادہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وفاقی حکومت نے گندم درآمد کرنے میں تاخیر کی تو ذخیرہ اندوز مافیا نے بھی بھانپ لیا کہ درآمدی گندم آنے میں ابھی وقت لگے گا۔ اس لئے انہوں نے اوپن مارکیٹ میں آٹے کے نرخ بڑھا دیئے۔

کراچی کے مقابلے میں اندرون سندھ آٹے کے نرخ میں کمی کی وجہ یہ ہے کہ ذخیرہ اندوز مافیا کے پاس جو گندم کے ذخائر ہیں جو زیادہ تر اندرون سندھ میں پڑے ہوئے ہیں وہاں سے گندم کراچی کے اوپن مارکیٹ میں آنے میں ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بھی ہوتے ہیں۔ اس لئے اندرون سندھ کے مقابلے میں کراچی کی اوپن مارکیٹ میں گندم کے نرخ زیادہ ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حکومت سندھ نے چند ہفتے قبل فی سو کلو گرام سرکاری گندم کی قیمت اجرا ساڑھے 12 ہزار روپے (فی کلو گرام 125 روپے) مقرر کی تو اس سے ذخیرہ اندوز مافیا کے وارے نیارے ہو گئے جس کے بعد ذخیرہ اندوز مافیا نے گندم کے نرخوں میں مزید اضافہ کیا بعدازاں وفاقی حکومت کا یہ موقف سامنے آیا ہے کہ ملک بھر میں سرکاری گندم کی قیمت اجرا ایک ہونی چاہئے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے گزشتہ منگل کو سندھ کابینہ کے اجلاس میں فی سو کلو گرام سرکاری گندم کی بوری کی قیمت اجرا ساڑھے 12 ہزار روپے سے کم کرکے سوا گیارہ ہزار روپے مقرر کی ہے۔

اس سلسلے میں جاری کئے گئے سرکاری اعلامیے میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ گندم کی قیمت اجرا کم ہونے سے فی کلو گرام آٹے کے نرخوں میں 15 روپے کی کمی واقع ہوگی اور عوام کو ریلیف ملے گا۔ جبکہ اس کے برعکس مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ قیمت اجرا میں جو کمی کی گئی ہے اس سے فی کلو گرام آٹے کے نرخوں میں 5 سے 7 روپے تک کی کمی ہو جائے تو یہ بھی بڑی بات ہے۔ کیونکہ اس کی وجہ محکمہ خوراک کی سرکاری گندم کے اجرا کی ناقص پالیسی ہے۔ جس کا کمیشن مافیا بھرپور فائدہ اٹھاتی ہے جس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ سرکاری گندم کا اجرا صرف آٹا تیار کرنے والی فلور کو ملوں کو نہیں بلکہ کوٹہ کے بنیاد پر غیر فعال اور بند فلور ملوں کو بھی ہوتا ہے جو سرکاری گندم سے آٹا تیار کرنے کے بجائے رعایتی نرخوں پر کوٹہ کی بنیاد پر ملنے والی سرکاری گندم اوپن مارکیٹ میں بیچ دیتی ہیں اور چلنے والی فلور ملیں وہ اوپن مارکیٹ سے خریدتی ہے۔

کابینہ کے سرکاری اعلامیہ کے مطابق رواں سیزن کے دوران فلور ملوں کو جو گندم جاری کی جائے گی اس میں 3 لاکھ ٹن درآمدی گندم اور 2 لاکھ 23 ہزار ٹن پاسکو سے لی گئی گندم بھی شامل ہوگی ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری شعبے میں ٹی سی پی کے توسط سے جو گندم درآمد کی جا رہی ہے ان میں سے رواں ماہ محکمہ خوراک کو تقریباً ایک لاکھ 16 ہزار ٹن گندم کراچی کی فلور ملوں اور آٹا چکیوں کے لئے مختص ہوگی یہ بھی بتاتے چلیں کہ ٹی سی پی کے ذریعے جو گندم درآمد کی جا رہی ہے وہ فی سو کلو گرام گندم محکمہ خوراک کو 13 ہزار ایک سو 82 روپے میں ملے گی اس طرح ایک ہزار 9 سو روپے سے زیادہ حکومت سندھ کو درآمدی گندم پر سبسڈی برداشت کرنا پڑے گی.

اس کے برعکس مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں گندم کے نرخوں کو دیکھا جائے تو اگر سرکاری شعبے کے بجائے نجی شعبے کو گندم درآمد کرنے کی اجازت دی جاتی تو فی سو کلو گرام درآمدی گندم تقریباً 11 ہزار روپے میں آجاتی۔ جس سے حکومت پر ناصرف سبسڈی کا بوجھ پڑتا بلکہ اس سے آٹے کے نرخوں میں بھی نمایاں کمی ہوتی کیونکہ ایسا ہونے کی صورت میں ذخیرہ اندوز مافیا، کمیشن خور مافیا اور خورد برد مافیا کے ساتھ غیر فعال اور بند فلور ملوں کی کمر ٹوٹ جاتی اور عوام کو فائدہ ہوتا۔