ایران کی یمن میں پاسداران انقلاب کی موجودگی کی تردید

’جعلی خبروں‘ کا مقصد حقائق پر پردہ ڈالنا ہے، اسماعیل بقائی

November 6, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

تہران:یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کے بیانات کے جواب میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان جاری تنازع میں ایران کے ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کر دیا۔

اسماعیل بقائی نے یورپی یونین پر یمنی عوام کے خلاف پابندیوں اور معاشی محاصرے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے یمن میں انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں پر یورپی یونین بھی ذمہ دار ہے۔

یاد رہے کہ رواں ہفتے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے سعودی عرب پر حوثی حملوں اور یمن میں ان کی فوجی کارروائیوں میں اضافے کی مذمت کی تھی، اور ایران سمیت تمام فریقوں سے حوثیوں کو فوجی معاونت فراہم کرنا بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم شدہ یمنی حکومت کی وزارت خارجہ نے منگل کو کہا تھا کہ 21 غیر ملکی فوجی ماہرین، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے 14 ارکان اور لبنان کی حزب اللہ کے سات ارکان شامل ہیں، حوثیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ان دعوؤں کو ’جعلی خبر‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی اشاعت کا مقصد حقائق پر پردہ ڈالنا اور عوامی رائے کو گمراہ کرنا ہے۔