پاکستان ریلویز کا کاروبار بڑھانے کے لیے 14 مزید مال بردار ٹرینیں چلانے کا فیصلہ

خانیوال میں ڈرائی پورٹ کی منظوری، پانچ نئے وے برج نصب کرنے اور فریٹ آمدن بڑھانے کا فیصلہ

November 6, 2026 · قومی

پاکستان ریلویز کا کاروبار بڑھانے کے لیے 14 مزید مال بردار ٹرینیں چلانے کا فیصلہ

پاکستان ریلویز نے کاروبار میں اضافے کے لیے مزید مال بردار ٹرینیں چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا، جس میں حکام کو 14 مال بردار ٹرینیں جلد از جلد چلانے کی ہدایت کی گئی۔

واضح رہے کہ ریلوے کے پاس وسائل کی کمی کے باوجود تاجر برادری کی جانب سے مال بردار ٹرینوں کی تعداد میں اضافے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا، تاہم ویگنوں کی عدم دستیابی جیسے مسائل کے باعث یہ مطالبہ پورا نہیں ہو رہا تھا۔

اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے ریلوے ترجمان نے بتایا کہ اجلاس میں اس معاملے پر تفصیلی غور کے بعد ہنگامی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا، تاکہ تاجر برادری کی طلب پوری ہونے کے ساتھ ریلوے کی آمدن میں بھی اضافہ ہو سکے۔ چنانچہ 14 مال بردار ٹرینیں چلانے کا فیصلہ کیا گیا اور حکام کو نئے سال کے پہلے ماہ جنوری میں ہی یہ ٹرینیں چلانے کا ہدف دیا گیا ہے۔

اجلاس میں فریٹ آمدن بڑھانے کے لیے خانیوال میں ڈرائی پورٹ بنانے کی منظوری بھی دی گئی۔ سرکاری طور پر بتایا گیا ہے کہ مکینیکل وجوہات کے باعث پیش آنے والے ٹرین حادثات کے معاملے پر ٹرین ایگزامینرز کے خلاف ایف آئی اے سے انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسی طرح اوور لوڈنگ روکنے کے لیے 31 دسمبر تک ملک بھر میں مزید پانچ وے برج نصب کیے جائیں گے، جبکہ کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ہیڈکوارٹرز کی آپریشنل میٹنگ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اب آپریشنل میٹنگز ڈویژن کی سطح پر ہوا کریں گی۔

ترجمان کے مطابق ریلوے سسٹم سے ڈی وی ایم اور ڈی وی ایس کوچز مرحلہ وار ختم کی جائیں گی، جبکہ پیداوار بڑھانے کے لیے سلیپر فیکٹریوں میں ڈبل شفٹ میں کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر ریلوے نے انجنوں اور کوچز کے پرزوں کی خریداری میں تاخیر پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔

پنجاب میں برانچ لائنوں کی بحالی کے لیے فنڈز جاری کرنے کی یقین دہانی

دریں اثناء وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب سے بھی ملاقات کی، جس میں صوبے میں برانچ لائنوں کی بحالی کے لیے فنڈز فوری جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ریلوے کے ساتھ شراکت داری کے لیے پنجاب حکومت کی جانب سے سب سے زیادہ اجلاس کیے گئے، تاہم عملی اقدامات کے حوالے سے بلوچستان سرِفہرست رہا ہے، جہاں ریلوے اور صوبائی حکومت کے اشتراک سے جناح پسنجر ٹرین چلائی جا رہی ہے۔