نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر دو حصوں میں تقسیم ہوگئے

بعض اہم شخصیات ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی حامی ہیں، جبکہ دیگر عہدیدار سفارتی حل کو ترجیح دے رہے ہیں۔

November 7, 2026 · بام دنیا
نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر دو حصوں میں تقسیم ہوگئے

نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر دو حصوں میں تقسیم ہوگئے

واشنگٹن: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ایران کے خلاف امریکا کو دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیروں کے درمیان جنگ جاری رکھنے یا ختم کرنے کے معاملے پر اختلافات سامنے آگئے ہیں۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ میں بعض اہم شخصیات ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی حامی ہیں، جبکہ دیگر عہدیدار سفارتی حل کو ترجیح دے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے حالیہ بریفنگز میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا نیا مرحلہ شروع کرنے کی حمایت کی ہے۔

اس کے برعکس نائب صدر جے ڈی وینس اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے جنگ ختم کرنے، سفارتی رابطے آگے بڑھانے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے پر زور دیا ہے۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ ایران پر مزید سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے اور ایرانی تجارت کے خلاف امریکی ناکہ بندی برقرار رکھنے کے حامی ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق صدر ٹرمپ کے متعدد بیرونی مشیروں نے بھی انہیں مشورہ دیا ہے کہ ایران کو اپنا جوہری پروگرام ترک کرنے پر مجبور کیا جائے۔ ان مشیروں کا خیال ہے کہ اس مقصد کا حصول جنگ کے باعث سامنے آنے والے سیاسی اخراجات کو جواز فراہم کر سکتا ہے۔

دوسری جانب رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قطری حکام نے جمعے کے روز آخری لمحات میں سفارتی کوششیں تیز کر دیں، جن کا مقصد امریکا کی نئی فوجی کارروائیوں کو روکنا، واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات کم کرنا، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا اور امریکی ناکہ بندی ختم کرانا ہے۔