ٹرمپ کو قتل کرنے کی آوازیں ذہن میں آ رہی تھیں،وائٹ ہاؤس کے قریب گرفتار مشتبہ شخص کا بیان
مشتبہ شخص کے قبضے سے متعدد ہتھیار برآمد ہوئے، جس کے بعد اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔
ٹرمپ کو قتل کرنے کی آوازیں ذہن میں آ رہی تھیں،وائٹ ہاؤس کے قریب گرفتار مشتبہ شخص کا بیان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر مبینہ قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے اپنے ذہن میں صدر ٹرمپ کو قتل کرنے اور امریکی دارالحکومت آنے سے متعلق آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ جمعرات کی شب سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے وائٹ ہاؤس کے قریب ایک پارکنگ میں کھڑی مشکوک گاڑی میں موجود شخص کو حراست میں لیا۔
امریکی سیکرٹ سروس کے مطابق مشتبہ شخص کے قبضے سے متعدد ہتھیار برآمد ہوئے، جس کے بعد اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔
حکام نے گرفتار شخص کی شناخت رونی یورڈریکس گوانیپا چرینوس کے نام سے کی ہے، جس کا تعلق وینزویلا سے بتایا گیا ہے۔ حکام کے مطابق وہ 2024ء سے غیر قانونی طور پر امریکا میں مقیم تھا۔
رپورٹس کے مطابق ملزم نے گرفتاری کے بعد مبینہ طور پر بتایا کہ اسے ذہن میں ایسی آوازیں سنائی دیتی تھیں جو اسے امریکی دارالحکومت جانے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کے لیے کہتی تھیں۔
سیکرٹ سروس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم جس گاڑی میں موجود تھا وہ چوری شدہ تھی۔ گاڑی کی تلاشی کے دوران تین مختلف اقسام کے آتشیں ہتھیار اور درجنوں گولیاں بھی برآمد کی گئیں۔
یہ واقعہ گزشتہ ایک سال کے دوران وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ اور ان کے اہلِ خانہ کو مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے والے افراد کے خلاف امریکی سیکرٹ سروس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔