سندھ حکومت کا نجی عمارتوں اور صنعتوں میں بجلی کی تنصیبات کی سالانہ جانچ پڑتال کا فیصلہ

فباٹی کا نوٹسز واپس لینے کا مطالبہ، صنعتی شعبے نے اضافی سرکاری مداخلت مسترد کردی

November 7, 2026 · قومی

سندھ حکومت کا نجی عمارتوں اور صنعتوں میں بجلی کی تنصیبات کی سالانہ جانچ پڑتال کا فیصلہ

کراچی: سندھ حکومت نے نجی شعبے کی تمام عمارتوں میں بجلی کی تنصیبات کی سالانہ انسپکشن کا فیصلہ کرتے ہوئے نوٹسز جاری کردیے، تاہم صنعتی شعبے نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق حکومت سندھ کے انرجی ڈیپارٹمنٹ نے سال 2003 کا نوٹیفکیشن معطل کرکے نجی شعبے کی تمام عمارتوں میں بجلی کی تنصیبات کی سالانہ جانچ پڑتال کے نوٹسز جاری کیے ہیں۔

دوسری جانب فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (فباٹی) نے صنعتی یونٹس کی سالانہ انسپکشن کو صنعتی شعبے پر ایک نیا بوجھ قرار دیتے ہوئے الیکٹرک انسپکٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹسز واپس لینے کا مطالبہ کردیا ہے۔

فباٹی کے صدر سید رضا حسین نے کہا ہے کہ صنعتی شعبہ الیکٹرک انسپکٹریٹ کے صنعتی یونٹس کی سالانہ انسپکشن کے فیصلے کو مسترد کرتا ہے، کیونکہ یہ اقدام صنعتی سرگرمیوں میں مداخلت کے مترادف ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ صنعتی شعبے کو الیکٹرک انسپکٹریٹ کے اس فیصلے سے مستثنیٰ قرار دیا جائے اور بجلی کی تنصیبات کی انسپکشن کا دائرہ کار صرف کمرشل عمارتوں تک محدود رکھا جائے۔ ان کے مطابق جاری کردہ نوٹسز سے صنعتکاروں میں اضطراب پیدا ہوگیا ہے۔

سید رضا حسین نے کہا کہ صنعتی شعبہ پہلے ہی مہنگی بجلی، گیس، بھاری ٹیکسوں اور پانی کے مسائل سے دوچار ہے، ایسے میں مزید سرکاری مداخلت کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔

فباٹی صدر کے مطابق صنعتی یونٹس کی بار بار انسپکشن سے پیداواری سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے، لہٰذا حکومت صنعتوں کو غیر ضروری ضابطوں اور انتظامی رکاوٹوں سے نجات دلائے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکٹرک انسپکٹریٹ صنعتی شعبے کے بجائے اپنی انسپکشن کمرشل عمارتوں تک محدود رکھے اور صنعتوں کو استثنیٰ دینے کے لیے سال 2003 کا نوٹیفکیشن بحال کیا جائے۔