امریکا نے دوبارہ جارحیت کی تو تباہ کن جواب دیں گے، محسن رضائی

کشیدگی میں اضافہ، ایرانی رہنماؤں کی سخت تنبیہ، امریکی قیادت انتشار کا شکار ہے، باقر قالیباف۔

November 7, 2026 · اہم خبریں
ایرانی دارالحکومت تہران میں اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران ایرانی حکام کی گفتگو کا منظر۔

ایرانی دارالحکومت تہران میں اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران ایرانی حکام کی گفتگو کا منظر۔

تہران میں ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو امریکا کو تباہ کن جواب دیا جائے گا۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی قیادت میں شدید انتشار کی صورتحال ہے اور یہ واضح نہیں کہ واشنگٹن میں مذاکرات کے لیے کس سے بات کی جائے۔

محسن رضائی نے دعویٰ کیا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی شکست کا اعتراف کر چکے ہیں، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی عہدے سے رخصتی قریب ہے اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو بھی برطرف کیے جانے کا امکان ہے۔ اُنہوں نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ پوڈ کاسٹر بن گئے ہیں۔

دریں اثنا، ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی قیادت ہارنے والے جواری کی طرح بازی چھوڑنے کو تیار نہیں ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ کے اگلے مرحلے کی تیاری کر رہے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے سوشل میڈیا بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا اسرائیل کو اولین ترجیح دینے کی پالیسی کے باعث تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ایرانی اسپیکر نے جے ڈی وینس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لمبی تقریریں کرنے کے بجائے اپنے صدر کو کیوں نہیں سمجھاتے۔

واضح رہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مڈٹرم الیکشن میں شکست پر ایکس پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران جنگ میں شکست کی وجہ سے سینیٹ سے ہاتھ دھونا پڑا اور صدر ٹرمپ نے خود تسلیم کیا کہ ہماری شکست کی وجہ ایران جنگ ہے۔ امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ انتخابی نتائج غیر متوقع تھے جس کی وجہ سے شدید دھچکا لگا، جبکہ اسرائیل سے تعلقات اور مہنگائی بھی شکست کی بڑی وجوہات رہیں۔

دوسری جانب واشنگٹن میں امریکا کے نومنتخب مسلمان سینیٹر عبدالسید نے نائب صدر جے ڈی وینس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں کسی بھی تباہ کن جنگ کے خلاف آج سے آٹھ ماہ پہلے اپنی آواز بلند کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ اب جنگ سے پیچھے ہٹنے کی کوششیں محض دکھاوا ہیں۔ عبدالسید نے جے ڈی وینس کو بزدل قرار دیتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں تنبیہ کی کہ اگر مستقبل میں انہوں نے صدارتی انتخاب میں حصہ لیا، تو وہ ان کی اصل سیاسی شخصیت اور چہرے کو عوام کے سامنے بے نقاب کریں گے۔