پولینڈ کے شہر کراکوف میں سیاحتی مقام پر اندھا دھند فائرنگ- 6 ہلاک
فوجی وردی میں ملبوس حملہ آور گرفتار، ملک بھر میں کھلبلی، 15 افراد زخمی۔
پولینڈ کے شہر کراکوف میں فائرنگ کے واقعے کے بعد جائے وقوعہ پر شواہد اکٹھے کرنے کی کارروائی۔
پولینڈ کے تاریخی اور سیاحتی شہر کراکوف کے سب سے مصروف مرکزی بازار میں ایک مسلح شخص نے معصوم شہریوں پر اندھا دھند گولیاں برسا دیں، جس کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد ہلاک اور 15 دیگر شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ پولش حکام کے مطابق یہ لرزہ خیز واقعہ ہفتے کے روز مقامی وقت کے مطابق دوپہر تقریباً 3 بجے اس وقت پیش آیا جب چوک میں مقامی لوگوں اور سیاحوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ پولیس نے جوابی کارروائی کے بعد حملہ آور کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا ہے۔
عینی شاہدین اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 24 سالہ پولش نژاد حملہ آور فوجی لباس اور بلٹ پروف جیکٹ پہنے ایک سیاہ رنگ کی گاڑی میں سوار تھا۔ اس نے کراکوف کے مشہور چوک ‘رائنک غوؤنی’ پر پہنچ کر گاڑی کی کھڑکی سے ملٹری گریڈ کی خودکار لانگ رائفل کے ذریعے چوک میں موجود لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ فائرنگ کی زد میں آ کر وہاں سے گزرنے والی ایک مقامی ٹرام بھی آئی جس کے ڈرائیور کی کیبن کا شیشہ چکنا چور ہو گیا تاہم مسافر محفوظ رہے۔
اس وحشیانہ کارروائی میں موقع پر موجود 4 خواتین اور 2 مرد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ حملے میں زخمی ہونے والے 15 افراد کو فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے جہاں ڈاکٹرز ان کی جانیں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ زخمیوں میں 2 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جن میں سے ایک سیکیورٹی اہلکار کو متعدد گولیاں لگی ہیں اور اس کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
مرکزی چوک پر فائرنگ کے فوراً بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ چوک سے کچھ فاصلے پر حملہ آور اور پولیس کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کی گولی لگنے سے ملزم زخمی ہو گیا اور اسے حراست میں لے لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ ملزم کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس کا آپریشن کیا گیا ہے۔ پولیس نے ملزم کی گاڑی سے مزید خطرناک ہتھیار، خودکار رائفلیں اور گولیوں کا ایک بڑا ذخیرہ بھی اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ واضح کیا ہے کہ حملہ آور اکیلا تھا اور اس کا کوئی دوسرا ساتھی موقع پر موجود نہیں تھا۔
اس ہولناک واقعے کے بعد پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے اپنی تمام مصروفیات منسوخ کر دیں اور صورتحال کی براہِ راست نگرانی کے لیے خود کراکوف پہنچ گئے۔ انہوں نے جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے حملہ آور کو روکنے والے پولیس اہلکاروں کی بہادری کو زبردست الفاظ میں سراہا۔ دوسری جانب پولینڈ کے صدر کارول ناوروکی اور امریکی سفیر ٹام روز نے بھی الگ الگ بیانات جاری کرتے ہوئے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور ہلاک ہونے والے افراد کے خاندانوں کے ساتھ گہرے دکھ اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ کراکوف پولیس کا کہنا ہے کہ اب شہر کو لاحق فوری خطرہ ختم ہو چکا ہے تاہم جائے وقوعہ پر شواہد اکٹھے کرنے کے لیے فرانزک ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔