سعودی عرب کے تجارتی ٹاور پر حوثی حملہ ، ایرانی سفارت خانے سے بھی جارحانہ بیان جاری

خطے میں امن کیلیے جنگ ختم اور سعودی عرب کی جانب سے تمام عسکری حملے فی الفور روکے جائیں،ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ

November 8, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

دبئی / ریاض / تہران: یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے اہم اقتصادی و تجارتی مرکز کو ایک بار پھر نشانہ بنایا ہے۔ ت

ازہ ترین اطلاعات کے مطابق، حوثی ملیشیا کی جانب سے ڈرون اور میزائل کے ذریعے کیے گئے حملے میں ریاض کے فنانشل ڈسٹرکٹ میں واقع ایک معروف اور آئیکونک عمارت “سعودی آرامکو ٹاور” (جسے ‘ولاز ان دی اسکائی’ بھی کہا جاتا ہے) کو نقصان پہنچا ہے۔ حوثی باغیوں کی جانب سے کی جانے والی اس فضائی مہم کے باعث مملکت میں معمولاتِ زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب، تہران میں ایرانی وزارتِ خارجہ نے یمن میں عام شہریوں کے خلاف سعودی عرب کی عسکری کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک جارحانہ اور سخت بیان جاری کیا ہے۔

ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریہ اسلامیہ ایران، سعودی عرب اور یمن کے درمیان تنازع کو مذاکرات کے ذریعے فوری طور پر ختم کرنے پر زور دیتی ہے۔

 ترجمان کے مطابق اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے تمام عسکری حملے فی الفور روکے جائیں۔یمن پر عائد مکمل معاشی و بحری حصار (بلاک ہیڈ) کا خاتمہ کیا جائے۔یمنی عوام کے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے (حقِ خود ارادیت) کے بنیادی حق کا احترام کیا جائے۔