کابل: افغانستان کے صوبے سمنگان میں ایک مدرسے میں ہونے والے دھماکے میں 16 افراد جاں بحق اور 24 زخمی ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سمنگان کے شہر ایبک میں ایک مدرسے میں زور دار دھماکا ہوا ہے۔ دھماکے کے وقت نماز ادا کی جارہی تھی جس میں بڑی تعداد میں طلبا اور عام شہری بھی شریک تھی۔
دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی جب کہ آس پاس کی عمارتوں اور گاڑیوں کی شیشے ٹوٹ گئے۔ طالبان حکام نے دھماکے کی جگہ محاصرہ کرلیا۔ امدادی کاموں کا سلسلہ جاری ہے۔
لاشوں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایک ڈاکٹر نے ’’اے ایف پی‘‘ کے نمائندے کو بتایا کہ دھماکے کی جگہ سے 16 لاشیں لائی گئی ہیں جب کہ 24 زخمی ہیں جن میں سے 6 کی حالت نازک ہے۔
اسپتال میں موجود غیرملکی میڈیا کے نمائندے نے دعویٰ کیا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں زیادہ تر طلبا اور کچھ شہری بھی شامل ہیں جو نماز کی ادائیگی کے لیے مدرسے آئے تھے۔
تاحال دھماکے کی نوعیت کا تعین نہیں ہوسکا اور نہ کسی گروہ نے دھماکے کی ذمہ داری قبل کی ہے۔ پولیس اور طالبان حکام جائے وقوعہ سے شواہد جمع کر رہے ہیں۔