فائل فوٹو
فائل فوٹو

پاکستان سے گرفتار گوانتاناموبے میں 23 سال سے قیدابو زبیدہ کو برطانیہ نے زرتلافی کیوں ادا کی؟

لندن: برطانوی حکومت نے پاکستان سے گرفتار  ہونے والے 23 برسوں سے  گوانتاناموبے میں بے گناہ قید کاٹنے والے فلسطینی نژاد ابو زبیدہ کو زرِتلافی کے طور پر بھاری رقم ادا کردی۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ ادائیگی ابو زبیدہ کی جانب سے برطانوی حکومت کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے کے نتیجے میں کی گئی۔

مقدمے میں ابو زبیدہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ میری 23 سال سے تاحال جاری غیر قانونی حراست اور تشدد میں برطانوی اداروں نے بھی بالواسطہ کردار ادا کیا تھا۔

اگرچہ معاوضے کی درست رقم ظاہر نہیں کی گئی تاہم ابو زبیدہ کی وکیل کا کہنا ہے کہ یہ رقم خاصی بڑی ہے اور اس کی ادائیگی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

ابو زبیدہ کون ہیں؟

ابو زبیدہ کا اصل نام زین العابدین محمد حسین ہے۔ وہ فلسطینی نژاد ہیں اور 2000 کی دہائی کے آغاز میں امریکا نے ان پر القاعدہ کا سینئر رہنما اور اسامہ بن لادن کا قریبی ساتھی ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔

تاہم بعد ازاں امریکی حکومت خود اس دعوے سے دستبردار ہو چکی ہے کہ ابو زبیدہ القاعدہ کی اعلیٰ قیادت کا حصہ تھے۔

انھیں مارچ 2002 میں فیصل آباد میں ایک چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن تھا۔

ابو زبیدہ کی گرفتاری کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اُس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے خود ان کی گرفتاری کا اعلان کیا اور القاعدہ کا اہم رہنما قرار دیا۔

2002 میں گرفتاری کے بعد سے ابو زبیدہ کو سی آئی اے کی مختلف خفیہ جیلوں (Black Sites) میں 2006 تک رکھا گیا جہاں امریکی عدالتی نظام کا اطلاق نہیں ہوتا تھا۔

اس دوران ابو زبیدہ کو 11 دن تک تابوت نما ڈبے میں بند رکھا گیا، 83 مرتبہ واٹر بورڈنگ کا نشانہ بنایا گیا، سونے نہیں دیا گیا اور اتنا تشدد کیا گیا کہ ایک آنکھ ضائع ہوگئی۔

ان تمام تر تشدد کے باوجود نہ اعترافی بیان ملا اور نہ کوئی ٹھوس ثبوت ہاتھ آیا۔ اس کے باوجود 2006 میں گوانتانامو منتقل کردیا گیا۔

جہاں وہ تاحال قید ہیں اور ان پر آج تک کسی عدالت میں باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔