تہران:اسلامی جمہوریہ ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ فلسطین، غزہ اور امتِ مسلمہ کے دفاع اور اپنی خودمختار پالیسیوں کی وجہ سے وہ مسلسل امریکہ، اسرائیل، نیٹو اور بعض علاقائی ممالک کی دشمنی کا سامنا کر رہا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، حالیہ بارہ روزہ جنگ میں امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی ایران کو شکست دینے اور ایرانی عوام کو اسلامی نظام کے خلاف اکسانے میں ناکام رہے۔ اس ناکامی کے بعد دشمن قوتیں کسی مناسب موقع کی تلاش میں تھیں تاکہ داخلی بدامنی کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے دوران زرِ مبادلہ کی قیمت اور چند اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عوام کے ایک محدود طبقے نے احتجاج کیا، جو مجموعی آبادی کے ایک فیصد سے بھی کم تھا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ان احتجاجات کو شہریوں کا جائز اور قانونی حق تسلیم کیا اور ان پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔
تاہم، حکومتی مؤقف کے مطابق اسرائیل سے وابستہ تربیت یافتہ دہشت گرد عناصر اور غیر ملکی ایجنٹوں نے احتجاجی مظاہروں میں دراندازی کی اور مظاہرین کو تشدد پر اکسانا شروع کیا۔ ان عناصر پر الزام ہے کہ انہوں نے سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچایا، ہسپتالوں، ایمبولینسوں، مساجد، مذہبی مراکز، قرآنِ مجید، بینکوں اور فائر اسٹیشنز کو نذرِ آتش کیا، جبکہ شہریوں کے گھروں، دکانوں اور نجی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
سرکاری بیان کے مطابق، مسلح عناصر نے پولیس پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں امن و امان برقرار رکھنے والے متعدد اہلکار اور بے گناہ شہری جاں بحق ہوئے۔ پولیس کی بروقت کارروائی کے دوران کئی مسلح غدار عناصر کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
ادھر پیر 12 جنوری کو ایران بھر میں، خصوصاً تہران، مشہد، اصفہان، شیراز، یزد اور قم میں کروڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے رہبرِ معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ امام خامنہای اور اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔ ان مظاہروں کو حکام نے اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ ایرانی قوم امریکی صدر اور عالمی صہیونیت کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہو سکتی۔
ایرانی حکام کے مطابق شہریوں کے تحفظ اور سلامتی کے پیشِ نظر بین الاقوامی مواصلاتی نیٹ ورکس پر عارضی پابندیاں عائد کی گئیں، جنہیں جلد ختم کر دیا جائے گا۔
مزید کہا گیا ہے کہ بی بی سی، سی این این، فاکس نیوز اور دیگر مغربی میڈیا ادارے عالمی استکباری محاذ کے ترجمان ہیں، جو ایران کے محدود احتجاجات کو بڑھا چڑھا کر اور گمراہ کن انداز میں پیش کرتے ہیں۔ سرکاری مؤقف کے مطابق ایرانی عوام کی اکثریت اپنے رہبر اور نظام کی حامی ہے اور امریکہ و اسرائیل سے وابستہ عناصر، بشمول رضا پہلوی، کو مسترد کر چکی ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos