پیرس:فرانسیسی کسانوں نے یورپی یونین اور جنوبی امریکی تجارتی بلاک مرکوسور کے درمیان متوقع تجارتی معاہدے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے تقریباً 350 ٹریکٹر پیرس میں داخل کر دیے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق مظاہرین نے صبح کے وقت مختلف موٹرویز کو بلاک کیا اور بعد ازاں ٹریکٹروں کے قافلوں کی صورت میں پیرس پہنچے۔ کسان مرکوسور معاہدے کی مخالفت کے ساتھ ساتھ اپنی روزمرہ زندگی میں انتظامی پیچیدگیوں میں کمی کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
فرانس کی سب سے بڑی زرعی یونین ایف این ایس ای اے کے نائب صدر لوک سمیسارٹ نے کہا کہ کسان اس وقت تک پیرس میں رہیں گے جب تک ان کے مطالبات سنے نہیں جاتے، اور اگر وزیر اعظم سے ملاقات نہ ہوئی تو احتجاج غیر معینہ مدت تک جاری رہ سکتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر مظاہرین پورے پیرس میں پھیل سکتے ہیں۔
کسانوں کی بڑی تعداد قومی اسمبلی کے باہر جمع ہو گئی، جس کے بعد اسمبلی کی صدر یائل برون پیوے نے ان سے ملاقات کی۔ اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم سباستین لیکورنو کے دفتر میں دوپہر کے وقت کسانوں کے ایک وفد کو بھی خوش آمدید کہا جائے گا۔
واضح رہے کہ یورپ بھر میں کسان یورپی یونین اور مرکوسور کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، جس پر گزشتہ 20 برس سے بات چیت جاری ہے۔ کسانوں کا مؤقف ہے کہ یہ معاہدہ مقامی زرعی منڈیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور کسانوں کے روزگار کے ساتھ ساتھ خوراک کے معیار پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈر لائن سے توقع ہے کہ وہ 17 جنوری کو پیراگوئے میں اس معاہدے پر دستخط کریں گی۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos