تہران: ایران نے خطے میں امریکی اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ امریکہ جس ملک سے ہم پر حملہ کرے گا وہاں امریکی اڈے ہمارا ہدف ہونگے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے ترکیہ، قطر اور متحدہ عرب امارات کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ امریکہ کو حملے سے باز رکھیں۔ ان کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہوئی تو وہاں موجودامریکی اڈے ایران کے ہدف ہونگے۔
ایرانی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر بریگیڈر جنرل مجید موسوی کا کہنا ہے ایران کے میزائلوں کا ذخیرہ گزشتہ سال سے زیادہ ہے۔ کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔صورتحال کے پیش نظر امریکہ نے قطر میں قائم امریکی ایئربیس سے غیر ضروری عملے کوآج شام تک بیس سے نکلنے کا حکم دے دیا۔ العدید بیس میں 10 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔
امریکہ ایران پر حملہ نہ کرے ، سعودی عرب، قطر اور عمان نے خبردار کردیا
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سعودی عرب کی قیادت میں خلیجی ممالک نے ایران پر امریکی حملےکی مخالفت کی ہے۔وال سٹریٹ جرنل کے مطابق سعودی عرب، قطر اور عمان نے امریکا کو خبردار کیا ہےکہ وہ ایران پر حملہ نہ کرے ورنہ عالمی آئل مارکیٹ ہل جائےگی اور اس سے امریکی معیشت کو بھی نقصان پہنچےگا۔
اخبار کے مطابق بظاہر یہ عرب ممالک خاموش ہیں لیکن پس منظر میں رہ کر لابنگ کر رہے ہیں کہ امریکا ایران پر حملہ نہ کرے کیونکہ اس سے عالمی آئل مارکیٹ کو شدید دھچکہ لگے گا اور لامحالہ امریکی معیشت بھی متاثر ہوگی۔اخبار کے مطابق سعودی حکام نے تہران کو یقین دلایا ہےکہ وہ ایران کے ساتھ کسی تنازع میں نہیں پڑیں گے اور امریکا کو ایران پر حملےکے لیے اپنی فضائی حدود استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ یہ اقدام امریکی کارروائی سے خود کو دور رکھنے اور اسے روکنے کی کوشش کے طور پر کیا گیا ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق عرب ریاستوں کو خدشہ ہےکہ ایران پر حملے سے آبنائے ہرمز کے ذریعےگزرنے والے تیل کے ٹینکروں کی آمدورفت متاثر ہوسکتی ہے، یہ تنگ آبی گزرگاہ خلیج فارس کے دہانے پر ایران کو اس کے عرب پڑوسیوں سے جدا کرتی ہے اور دنیا کی تقریباً پانچویں حصےکی تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔
اخبار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے واضح نہیں کیا کہ ایران کے خلاف کس نوعیت کی فوجی کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے تاہم حکام کا کہنا ہےکہ حملے کا امکان زیادہ ہے۔وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ ایران کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صدر ٹرمپ کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں، صدر مختلف آرا سنتے ہیں لیکن آخرکار وہی فیصلہ کرتے ہیں جو وہ بہتر سمجھتے ہیں۔گزشتہ روز ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین سے براہ راست مخاطب ہوتے ہوئے انہیں حکومت کی جانب سے احتجاج دبانے کی کوششوں کی مخالفت کرنے اور ریاستی اداروں پر قبضہ کرنے کو کہا تھا اور اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا کہ ‘مدد آ رہی ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos