ایران کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کو موصول فہرست میں کیا ہے؟

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو اہم فوجی اہداف کی تفصیلی فہرست موصول ہوئی ہے۔برطانوی جریدہ ”ڈیلی میل”’ کے مطابق ،واشنگٹن میں مقیم غیر منافع بخش تنظیم”ایران کے جوہری ہتھیاروں کے خلاف محاذ”(UANI)نے 50 اہداف پر مشتمل ایک فائل وائٹ ہائوس کے حکام کوحال ہی میں پیش کی تھی۔

اس دستاویز میں”ثر اللہ”میں قدس ریولوشنری گارڈ کے ہیڈکوارٹرز کے بالکل درست جغرافیائی کوآرڈینیٹس شامل ہیں، جو مظاہرین کے خلاف مہم کی نگرانی کا مرکز ہے۔ یہ ہیڈکوارٹر دراصل فوج کا مرکزی کمانڈ سینٹر ہے، جہاں پولیس کی فوجی کارروائیوں پر کنٹرول رکھا جاتا ہے۔

فہرست میں چار بڑے ذیلی مراکز شامل ہیں، جو تہران کے مختلف علاقوں کی نگرانی کرتے ہیں۔
قدس قیادت کا مرکز: شمال اور شمال مغرب تہران میں کارروائیوں کی نگرانی۔
الفتح قیادت کا مرکز: جنوب مغرب تہران کی نگرانی۔
النصر قیادت کا مرکز: شمال مشرقی تہران میں کارروائیاں۔
القدرقیادت کا مرکز: جنوب مشرق اور وسط تہران کی نگرانی۔

یہ مقامات اور یونٹس کی نشاندہی کرنے کے بعد امریکی فوج کے پاس اب ایرانی گارڈ کی صلاحیتوں کا نقشہ موجود ہے کہ وہ کس طرح اپنے شہریوں کے خلاف مہمات کو مربوط کرتا ہے، جو صدر ٹرمپ کو برہم کر گیا اور انہیں مظاہرین کی حمایت کے لیے ممکنہ اقدامات پر غور کرنے پر مجبور کیا۔

ایران کے نیشنل سیکیورٹی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (UANI)میں ایران ریولوشنری گارڈ ریسرچ ڈائریکٹر کسری عرابی نے بتایا کہ احتجاج اور مظاہرین کے خلاف مہم تب تک جاری رہیں گی، جب تک کہ غیر مسلح ایرانی شہریوں اور اس اسلحہ بردار نظام کے درمیان طاقت کا توازن تبدیل نہ ہو۔

قیادت کے اہم مراکزکے ساتھ ساتھ فائل میں تہران بھر کی بنیادی انفراسٹرکچر کی تفصیل بھی شامل ہے، جو نظام کے زیادہ تر یونٹس کے لیے ایک مرکزی کمانڈ نیٹ ورک کا کام کرتی ہے اور انٹیلی جنس، پولیس اور نفسیاتی کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں مدد فراہم کرتی ہے۔

یہ اہداف 23علاقائی اڈوں پر مشتمل ہیں ،جو ایرانی ریولوشنری گارڈ کے ماتحت بسیج فورسز کے کنٹرول میں ہیں، اور ہر ایک اڈا تہران کے 22مختلف علاقوں میں ہے۔ بسیج فورسز، ریولوشنری گارڈ کی مقامی شدت پسند ملیشیا ہیں۔ فہرست میں وہ آپریشنل یونٹس شامل ہیں، جو مظاہرین کے خلاف کارروائی کی قیادت کر رہی ہیں، جن میں دو اہم بریگیڈز ہیں:
بریگیڈ آل محمد شمال مشرقی تہران میں تعینات ہے ۔ بریگیڈ الزہرا جنوب مشرقی تہران میں تعینات ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔