واشنگٹن : 50 سال بعد انسان کی چاند پر واپسی، ناسا کا ’آرٹیمس دوم‘ خلابازوں کو وہاں تک لے جائے گاجہاں آج تک کوئی انسان نہیں پہنچا!
تقریباً پچاس سال بعد انسان ایک بار پھر چاند کی جانب روانہ ہونے جا رہا ہے، اور اس تاریخی سفر کی تیاری مکمل ہو چکی ہے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ انسانوں کو چاند تک لے جانے والا مشن، آرٹیمس دوم، فروری کے پہلے ہفتے میں روانہ ہونے کے لیے تیار ہے۔
اس تاریخی مشن کے لیے ناسا کے دیوہیکل سپیس لانچ سسٹم، ایس ایل ایس مون راکٹ اور اوریون سپیس کیپسول کو فلوریڈا کے لانچ پیڈ پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
98 میٹر بلند اس راکٹ کو گاڑیوں کی اسمبلی بلڈنگ سے لانچ پیڈ تک پہنچانے میں تقریباً بارہ گھنٹے لگے، جہاں اس نے چار میل سے زائد کا سفر طے کیا۔
آرٹیمس دوم ایک 10 روزہ انسانی مشن ہوگا، جس میں چار خلا نورد چاند کے گرد سفر کریں گے۔
تاہم روانگی سے قبل راکٹ اور اسپیس کیپسول کے حتمی ٹیسٹ، مکمل جانچ اور ایک ڈریس ریہرسل کی جائے گی تاکہ ہر مرحلہ محفوظ بنایا جا سکے۔
کیونکہ خلا میں غلطی کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔
ناسا کے مطابق اس مشن کی سب سے جلد ممکنہ لانچ تاریخ 6 فروری ہے، تاہم مارچ اور اپریل میں بھی لانچ کے متبادل مواقع موجود ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ یہ مشن خلا نوردوں کو خلا کے اُس مقام تک لے جائے گا جہاں آج تک کوئی انسان نہیں پہنچا۔
یہ مشن محض ایک سفر نہیں بلکہ مستقبل کی بنیاد ہے۔ آرٹیمس دوم کا اصل مقصد آنے والے برسوں میں انسان کو دوبارہ چاند کی سطح پر اتارنے کی راہ ہموار کرنا ہے،جو 1960 اور 1970 کی دہائی کے اپولو مشنز کے بعد پہلی بار ممکن ہو سکے گا۔
یوں انسان ایک بار پھر تاریخ دہرانے کے قریب ہے، اور دنیا کی نظریں اس خلائی سفر پر جمی ہوئی ہیں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos