نامورصحافی مارک ٹلی 90 سال کی عمر میں چل بسے

 

تجربہ کار اور نامور صحافی مارک ٹلی نہیں رہے، ان کی عمر90 سال تھی۔ان کے انتقال سے نشریاتی صحافت ایک انتہائی پائیدار اور مستند آواز سے محروم ہو گئی۔

1970 کی دہائی سے لے کر 1990 کی دہائی کے اوائل تک، مارک ٹلی پورے جنوبی ایشیا میں ایک جاناپہچانا اور مشہورنام تھا۔ خطے میں بی بی سی کے نمائندے کے طور پر، وہ پرسکون، معتبر اور گہرائی میں باخبر رپورٹنگ کے لیے مشہورتھے۔

برصغیرکے اہم واقعات کو انہوں نے دنیاتک پہنچایا۔ 1979 میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی خبرسے لے کر آپریشن بلیو سٹار کی کوریج تک، اور 1984 میں اندرا گاندھی کے قتل کی رپورٹنگ کرنے والے پہلے شخص ہونے کے ناتے، مارک ٹلی ہر جگہ موجود تھے، تاریخ کی طرح ریکارڈ کر رہے تھے۔بابری مسجد کے انہدام کے دوران انہیں جان ہتھیلی پرلے کرواقعے کی رپورٹنگ کرناپڑی تھی۔مارک گذشتہ کئی دہائیوں سے دہلی میں مقیم تھے۔

مارک ٹلی کے نزدیگ صحافت محض واقعات بیان کرنے کا نام نہیں تھا بلکہ ان کے لیے معاشروں کو سمجھنے اور جاننے کا ذریعہ رہی۔اسی فلسفے نے تحریر کی شکل بھی اختیارکی۔ ان کی کتابیں، بشمول راج ٹو راج،نوفل سٹاپس ان انڈیا، اور امرتسر: مسز گاندھی کی آخری جنگ قابل ذکرہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ مارک ٹلی کی موت ایک ایسے دور کا خاتمہ ہے جب غیر ملکی نامہ نگار تاریخ کے قابل اعتماد گواہ اور ترجمان تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔