کراکس: صدر مادورو کی اہلیہ سمیت امریکی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتاری اور پھر نیویارک منتقلی کے بعد وینزویلا کی عبوری حکمراں بننے والی ڈیلسی روڈریگز کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کے تیل پر لگائی جانی والی پابندیوں کے تناظر میں عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے تیل کی کمپنیوں کے کارکنوں سے خطاب کیا۔
وینزویلا کی نگراں صدر ڈیلسی روڈریگز نے پہلی بار سخت لہجے میں کہا کہ بس بہت ہوگیا، امریکا احکامات کی حد ہوگئی۔ ہمیں اپنے مسائل خود حل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔
انھوں نے زور دیکر کہا کہ وینزویلا کو غیر ملکی طاقتوں کی بار بار مداخلت کی بھاری قیمت چکانی پڑی ہے اور اب مزید کی سکت نہیں رہی ہے۔
وینزویلا کی عبوری صدر نے کہا کہ بیرونی دباؤ اور مداخلت رک جائے تو ہم ملک میں خود نہ صرف امن و استحکام قائم کرسکتے ہیں بلکہ ہر بحران سے نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یاد رہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گزشتہ ماہ امریکی سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے ان کے صدارتی محل سے اہلیہ سمیت گرفتار کیا تھا۔
امریکی اہلکار وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو بیڈ روم سے گھسیٹتے ہوئے ہیلی کاپٹر تک لے گئے اور بحری جہاز تک پہنچایا۔
بحری جہاز سے طویل سفر طے کرکے وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کو امریکا پہنچایا گیا اور نیویارک کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
امریکی عدالت میں وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ پر منیشات اسمگلنگ اور امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کے الزام میں سماعت ہوئی۔
صدر نکولس اور ان کی اہلیہ نے تمام الزمات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ گرفتاری نہیں بلکہ اغوا ہے جس کا مقصد وینزویلا کے تیل پر قبضہ کرنا ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos