کولکتہ: بھارتی ریاست مغربی بنگال میں مہلک نپاہ وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد ایشیا کے کچھ ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، کئی ہوائی اڈوں پر سکریننگ سخت کر دی گئی ہے۔
تھائی لینڈ نے تین ہوائی اڈوں پر مغربی بنگال سے آنے والی پروازیں کے مسافروں کی اسکریننگ شروع کر دی ہے جبکہ نیپال نے کھٹمنڈو ہوائی اڈے کے علاوہ انڈیا کے ساتھ مختلف زمینی سرحدی گزرگاہوں پر بھی آنے والوں کی اسکریننگ کا آغاز کر دیا ہے۔
رواں ماہ مغربی بنگال میں پانچ ہیلتھ ورکرز نپاہ وائرس سے متاثر ہوئے تھے، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔ ان افراد کے ساتھ رابطے میں آنے والے تقریباً 110 افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔
خیال رہے کہ نپاہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ اس وائرس کی کوئی ویکسین نہیں ہے جس کی وجہ اس سے متاثر ہونے والے افراد میں موت کی شرح 40 سے 75 فیصد تک ہے۔
نپاہ وائرس کیا ہے اور اس کی علامات کیا ہوتی ہیں؟
نپاہ وائرس پھل کھانے والی چمگادڑوں اور خنزیر جیسے جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے اس کے علاوہ، یہ آلودہ کھانے کے ذریعے ایک متاثرہ شخص سے دوسرے شخص کو بھی لگ سکتا ہے۔
نپاہ وائرس بہت جلد وبا کی صورت اختیار کر سکتی ہے جس کی وجہ سے عالمی ادارہ صحت نے اسے کووڈ-19 اور زیکا جیسے وائرس کے ساتھ اپنی ترجیحی فہرست میں شامل کیا ہوا ہے۔
اس وائرس کی علامات چار سے 14 دن کے درمیان ظاہر ہوتی ہیں۔
ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، پٹھوں میں درد، الٹی اور گلے کی سوزش شامل ہو سکتی ہے۔ کچھ لوگوں میں اس کے بعد غنودگی اور نمونیا جیسی علامات بھی ظاہر ہوتی ہیں۔شدید انفیکشن کی صورت میں یہ انسیفلائٹس یعنی دماغ کی سوزش کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے متاثر ہونے والے کئی افراد میں اس کی علامات بالکل بھی ظاہر نہیں ہوتیں۔آج تک نپاہ وائرس کے علاج کے لیے کوئی ویکسین منظور نہیں ہوئی ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos