لاہور: کبوتر دنیا کے بہترین نیویگیٹرز میں شمار کیے جاتے ہیں اور یہ ہزاروں کلومیٹر کی دوری کے باوجود اپنے راستے کو کبھی نہیں بھولتے۔ اگر انہیں سینکڑوں کلومیٹر دور کسی نامعلوم مقام پر چھوڑ دیا جائے تو بھی وہ بالآخر اپنے گھر یا مقررہ منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
قدیم زمانے میں یہی خصوصیت کبوتروں کو پیغام رسانی کے لیے استعمال کرنے کی بنیاد بنی، تاہم سائنسدان طویل عرصے سے یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے تھے کہ کبوتروں کو راستہ کیسے یاد رہتا ہے۔
حال ہی میں کی گئی ایک سائنسی تحقیق میں کبوتروں کے دماغ کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا۔ تحقیق کے دوران زمین کے مقناطیسی میدان جیسا ایک مصنوعی فیلڈ تیار کیا گیا اور کبوتروں کو اس ماحول میں رکھا گیا، جس کے نتائج حیران کن رہے۔
تحقیق کے مطابق کبوتروں کے دماغ کے وہ حصے جو سمت اور راستہ تلاش کرنے کے ذمہ دار ہیں، ان کا تعلق اندرونی کان سے ہے۔ اندرونی کان میں موجود نہایت باریک بال زمین کے مقناطیسی میدان کی لہروں سے متحرک ہوتے ہیں، جس سے برقی سگنلز پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سگنلز کبوتروں کو رہنمائی فراہم کرتے ہیں کہ کس سمت میں پرواز کرنی ہے اور منزل کہاں واقع ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی اصول آج کے جدید وائرلیس موبائل چارجرز میں بھی استعمال ہو رہا ہے، جہاں مقناطیسی فیلڈ میں تبدیلی کے ذریعے برقی لہریں پیدا کی جاتی ہیں تاکہ موبائل فون کو چارج کیا جا سکے۔
سائنسدانوں کے مطابق فطرت میں موجود یہ نظام جدید ٹیکنالوجی کے لیے متاثر کن مثال ہے اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قدرت کے راز آج بھی انسان کو سیکھنے اور آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos