بھارت میں نپاہ وائرس پھیلنے پر پاکستان میں ہائی الرٹ

کراچی(رپورٹ:محمد اطہر فاروقی)بھارت میں نپاہ وائرس کے کیسز کے بعد پاکستان میں ہائی الرٹ کر دیا گیا۔بارڈر ہیلتھ سروسز اور نیشنل انسٹیٹویٹ آف ہیلتھ اسلام آباد نے ایڈوائزری جاری کر دی۔ملک بھر کے ائیرپورٹس،بندرگاہوں اور زمینی سرحدوں پر مسافروں کی اسکریننگ اور نگرانی کے احکامات جاری کر دئیے۔ایڈوائزری میں تمام صوبائی حکومتوں کو بڑے اسپتال میں نپاہ کے مشتبہ مریضوں کیلے الگ یونٹ بنانے کی ہدایت کی۔ماہرین کے بقول پاکستان میں وائرس کا کوئی کیس تاحال رپورٹ نہیں ہوا۔تفصیلات کے مطابق بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں مہلک نپاہ وائرس کے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد پاکستان میں بھی اقدامات تیز کرتے ہوئے ہائی الرٹ جاری کردیا۔ پاکستان نے ملک بھر میں ہائی الرٹ نافذ کرتے ہوئے تمام ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور زمینی سرحدوں پر آنے والے مسافروں کی سخت اسکریننگ، نگرانی اور فوری ردعمل کے احکامات جاری کر دیے ہیں، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ تاحال پاکستان میں نپاہ وائرس کا کوئی تصدیق شدہ انسانی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔اس حوالے سے ماہر ریسرچر اور ڈاکٹر رانا جواد نے بتایا کہ پاکستان یا دوسرے ممالک جہاں ابھی تک اس کی اطلاع نہیں ملی ہے وہاں نپاہ وائرس کے پھیلنے کے امکانات ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ متعدی بیماریوں کے بارے میں پہلا سبق یہ ہے کہ ’’متعدی بیماریاں قومی سرحدوں کا احترام نہیں کرتیں۔‘‘ لہذاایک متاثرہ شخص کہیں بھی پہنچ سکتا ہے کیونکہ ہم بہت اچھی طرح سے ایک دوسرے سےجڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان اڑنے والے چمگادڑوں کی رینج کے کنارے پر ہے لیکن تقریباً نصف پاکستان ان کی پہنچ میں ہے۔ ہمارے پاس خنزیر کے فارم نہیں ہیں، لیکن ہمارے پاس ملک کے جنوب میں کھجور کے درختوں سمیت دیگر بہت درخت ہیں۔ اگرچہ ابھی تک کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے تاہم میں پھر بھی سفارش کروں گا کہ عوام کو آگاہ کیا جائے کہ وہ گرے ہوئے پھل نہ کھائیں، خاص طور پر اگر اسے آدھا چمگادڑ یا پرندے کھا چکے ہوں۔ تمام پھلوں کو کھانے سے پہلے پوری طرح دھو لیں۔ اگر کھجور کا رس کہیں بھی استعمال کیا جائے تو اسے استعمال سے پہلے ابال لینا چاہیے۔دوسری جانب وزارت قومی صحت کے ماتحت بارڈر ہیلتھ سروسز پاکستان اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد کی جانب سے 28 جنوری کو جاری دو الگ الگ ایڈوائزریز میں خبردار کیا گیا ہے کہ نپاہ وائرس ایک انتہائی خطرناک زونوٹک بیماری ہے جو جانوروں سے انسانوں اور قریبی انسانی رابطے کے ذریعے پھیل سکتی ہے، اور خطے میں آمدورفت کے باعث پاکستان کو سرحد پار سے اس کے پھیلاؤ کا حقیقی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ بارڈر ہیلتھ سروسز پاکستان نے ہدایت کی ہے کہ فوری طور پر ملک کے تمام پوائنٹس آف انٹری پر سخت اور بہتر ہیلتھ سرویلنس نافذ کی جائے، جس میں بین الاقوامی ہوائی اڈے، سمندری بندرگاہیں اور زمینی سرحدی گزرگاہیں شامل ہیں، اور اس میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ ایڈوائزری کے مطابق تمام آنے والے اور ٹرانزٹ مسافروں، عملے، ڈرائیورز اور معاون اسٹاف کی سو فیصد اسکریننگ لازم ہوگی اور کسی بھی فرد کو بارڈر ہیلتھ سروسز کی کلیئرنس کے بغیر پاکستان میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ ہر مسافر کی گزشتہ اکیس دن کی مکمل سفری اور ٹرانزٹ ہسٹری کی تصدیق کی جائے، چاہے اس کی قومیت یا سفری حیثیت کچھ بھی ہو۔ نپاہ سے متاثرہ یا ہائی رسک علاقوں سے آنے یا وہاں سے گزرنے والے مسافروں پر خصوصی نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ سفری معلومات چھپانے یا غلط بیان کرنے کی صورت میں فوری کارروائی کا کہا گیا ہے۔ایڈوائزری کے مطابق تمام مسافروں کا تھرمل اسکریننگ اور طبی معائنہ کیا جائے گا، جبکہ اسکریننگ اسٹاف کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نپاہ وائرس کی ابتدائی علامات جیسے بخار، سر درد، سانس کی علامات اور اعصابی مسائل بشمول الجھن، غنودگی یا ہوش میں تبدیلی پر خصوصی توجہ دیں۔ کسی بھی مشتبہ مریض کو فوری طور پر پوائنٹ آف انٹری پر الگ تھلگ کر کے اس کی آگے نقل و حرکت روکی جائے گی اور انفیکشن پریوینشن اینڈ کنٹرول پروٹوکول کے تحت اسے متعلقہ آئسولیشن سہولت یا تیسرے درجے کے اسپتال منتقل کیا جائے گا۔دوسری جانب نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول کی ایڈوائزری میں تصدیق کی گئی ہے کہ بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں کم از کم پانچ نپاہ وائرس کے کیسز سامنے آ چکے ہیں، جن میں کولکتہ کے صحت کے عملے کے افراد بھی شامل ہیں۔ دستاویز کے مطابق نپاہ وائرس کی اموات کی شرح چالیس سے پچھتر فیصد تک ہو سکتی ہے اور یہ شدید سانس کی بیماری اور جان لیوا دماغی سوزش کا سبب بنتا ہے۔اگرچہ ایڈوائزری میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان میں اب تک کوئی انسانی کیس رپورٹ نہیں ہوا، تاہم صوبائی حکومتوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر کم از کم ایک تیسرے درجے کے اسپتال یا متعدی امراض یونٹ کو نپاہ کے مشتبہ مریضوں کے لیے مختص کریں، تربیت یافتہ عملہ، این نائنٹی فائیو ماسکس سمیت حفاظتی سامان کی دستیابی یقینی بنائیں اور ریپڈ ریسپانس ٹیموں کو الرٹ رکھیں۔ایڈوائزری کے مطابق نپاہ وائرس عام طور پر پھل دار چمگادڑوں سے آلودہ خوراک کے استعمال، متاثرہ جانوروں سے براہ راست رابطے یا مریض کے جسمانی رطوبتوں کے ذریعے قریبی انسانی رابطے سے پھیلتا ہے، خاص طور پر اسپتالوں میں۔ ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، پٹھوں میں درد اور قے شامل ہیں، جو تیزی سے دماغی سوزش، دوروں اور کوما میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔نپاہ وائرس کی انکیوبیشن مدت عام طور پر چار سے چودہ دن ہوتی ہے، تاہم بعض کیسز میں یہ پینتالیس دن تک بھی دیکھی گئی ہے، جس کے باعث سرحد پار خاموش منتقلی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ وائرس کی تشخیص کے لیے آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کو معیار قرار دیا گیا ہے، جبکہ تمام نمونوں کو سخت بایو سیفٹی اور کولڈ چین کے تحت نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔صحت حکام کے مطابق اس وقت نپاہ وائرس کے خلاف کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص اینٹی وائرل علاج دستیاب نہیں، جبکہ مریضوں کا علاج زیادہ تر معاون نگہداشت پر مشتمل ہوتا ہے اور شدید کیسز میں وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ریباویرین کے مؤثر ہونے کے شواہد غیر حتمی قرار دیے گئے ہیں۔ایڈوائزریز میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر کے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آپریشنز سینٹرز کو واچ موڈ پر رکھا گیا ہے۔اگرچہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق بھارت میں موجود کیسز سے مزید پھیلاؤ کا خطرہ فی الحال کم ہے، تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بروقت تیاری اور سخت نگرانی ہی ممکنہ بحران سے بچاؤ کا واحد راستہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔