TSHWANE, SOUTH AFRICA – NOVEMBER 02, 2017: EFF marched to the Isreali embassy in Pretoria today in solidarity with the Palestinians. (Photo by Gallo Images / Alet Pretorius)

’ ’ فلسطین پر ناجائزقابض اسرائیل‘‘۔ سفیر نکالنے پر جنوبی افریقی حکومت کا کھراجواب

 

جنوبی افریقہ نے ضوابط کی خلاف ورزیوں پر اسرائیل سفارت کار کو 72 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے، جس کے ردعمل میں اسرائیلی حکومت نے بھی پریٹوریا کے سفارتی نمائندے کو ملک بدر کر دیا ۔

جنوبی افریقہ کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس نے اسرائیل کو مطلع کر دیا ہے کہ ان کے ناظم الامور ایریل سیڈمین ’ناپسندیدہ شخصیت‘ ہیں اور انہیں 72 گھنٹوں کے اندر ملک سے نکلنا ہو گا۔بیان میں کہا گیاکہ یہ فیصلہ کن اقدام سفارتی آداب اور معمولات کی ناقابل قبول خلاف ورزیوں کے سلسلے کے بعد اٹھایا گیا ہے جو جنوبی افریقہ کی خودمختاری کے لیے براہِ راست چیلنج ہیں۔بیان کے مطابق ان خلاف ورزیوں میں صدر سیرل رامافوسا پر ’توہین آمیز حملوں کے لیے سرکاری اسرائیلی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا بار بار استعمال‘ بھی شامل ہے۔

افریقی وزارت خارجہ نے اسرائیلی سفارت خانے پر یہ الزام بھی لگایا کہ اس نے اپنے سینیئر حکام کے دوروں کے بارے میں جنوبی افریقہ کو آگاہ نہ کر کے ’جان بوجھ کر سفارتی کوتاہی‘ برتی۔بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے سفارتی خلاف ورزیاں ’سفارتی استحقاق کا سنگین غلط استعمال ہیں۔

اسرائیلی وزارت خارجہ نے فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سینیئرجنوبی افریقی سفارتی نمائندے شان بائنیویلڈ کو ’ناپسندیدہ شخصیت قرار دیتے ہوئے انہیں 72 گھنٹوں کے اندر اسرائیل چھوڑنے کا حکم دے دیا۔ایکس پر جاری ایک بیان میں تل ابیب نے پریٹوریا پر اسرائیل کے خلاف جھوٹے حملوںکا الزام لگایا اور اپنے سفیر کی ملک بدری کو یک طرفہ اور بے بنیاد اقدام‘قرار دیا۔

جنوبی افریقہ کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے سفیر کی ملک بدری پر اسرائیل کو کھرا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ ریاست فلسطین میں سفیر تھے نہ کہ اسرائیل کے لیے۔ترجمان نے ’ایکس‘ پر کہاکہ اسرائیل کی رکاوٹیں ایک ایسی مضحکہ خیز صورت حال پیدا کرتی ہیں جہاں انہیں (سفیر کو) اسی ریاست کے ذریعے اپنی سفارتی اسناد جمع کرانی پڑتی ہیں جس نے ان کے میزبان ملک (فلسطین) پر قبضہ کر رکھا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پہلے ہی اس مقدمے کی وجہ سے کشیدہ ہیں جو جنوبی افریقہ نے 2023 میں اقوام متحدہ کی عدالت میں دائر کیا تھا اور جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ غزہ پر اسرائیل کی جنگ نسل کشی کے مترادف ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔