ایران پرحملے کے منصوبے سے خلیجی اتحادیوں کو آگاہ نہیں کیا، ٹرمپ

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاہے کہ ان کی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران خلیجی اتحادیوں کے ساتھ اپنے منصوبے شیئر نہیں کیے۔امریکی ٹی وی کو صدرنے بتایاکہ ہم انہیں اپنا منصوبہ نہیں بتا سکتے۔منصوبہ یہ ہے کہ اس وقت ایران ہم سے بات کر رہا ہے، اور ہم دیکھیں گے کہ کیا ہم کچھ کر سکتے ہیں، ورنہ، ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے،ہمارے پاس ایک بڑا بحری بیڑا ہے۔

 

ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن کے پاس ایک بڑا بحری بیڑہ خطے کی طرف بڑھ رہا ہے، اور اس پر موجو فوجی طاقت کی تعداد وینزویلا میں امریکی فوجی آپریشن سے پہلے تعینات افواج سے زیادہ ہے۔انہوں نے تسلیم کیا کہ تہران کے ساتھ بات چیت جاری ہے لیکن یہ بھی کہا کہاس کا نتیجہ غیر یقینی ہے۔ پچھلی بار جب ہم نے بات چیت کی تو ہمیں ان کا نیوکلیئر نظام ختم کرنا تھا لیکن یہ کام نہیں ہوا۔پھر ہم نے اسے مختلف طریقے سے کیا، اور اب ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔

 

وہ گذشتہ سال جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کا حوالہ دے رہے تھے، جس کے بارے میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کی جوہری صلاحیتوں کو مٹا دیاہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت ایران کے خلاف متعدد کارروائیوں پر غور کر رہے ہیں – ان میں محدود علامتی حملے اور مکمل طور پر حکومت کی تبدیلی دونوں شامل ہیں۔ عوامی سطح پر، انہوں نے فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے دوران مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔

اس کے برعکس، کچھ اسرائیلی قانون سازوں کا خیال ہے کہ ایک محدودحملہ، یا ایران میں حکومتی تبدیلی کے بغیر نیا معاہدہ بھی، اسرائیل کی سلامتی کے لیے بڑے خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔

اسرائیلی ذرائع کا خیال ہے کہ نیتن یاہو امریکہ کو زیادہ سے زیادہ طاقت ورحملوں پر اکسا رہے ہیں جس کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی ہے، اور نیتن یاہو نے مبینہ طور پر اس ماہ کے شروع میں ٹرمپ کو حملے سے باز رہنے کی صلاح دی تھی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ منصوبہ بند امریکی حملے کو بہت چھوٹاسمجھتے تھے۔

 

دریں اثنا،اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی عوام کو مایوس نہیں کریں گے جو حکومت کے خلاف احتجاج کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔ہکابی نے اسرائیل کے چینل 12 نیوز کو بتایا کہ یہ ایک ایسا صدر ہے جس نے بہت سے وعدے کیے ہیں؛ آپ کوڈھونڈے سے بھی کوئی وعدہ نہیں ملے گا جسے انھوں نے پورا نہیں کیا ہو گا،وہ خالی دھمکیاں نہیں دیتے۔انہوں نے مزید کہا کہ میں [ایران کے لوگوں] سےکہوں گا، کہ صدرجو کچھ کہتے ہیں،اس پر غورکریں اور ان کی بات پر عمل کریں۔ وہ اپنے وعدے پر عمل کریں گے۔

 

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔