فوٹو سوشل میڈیا
فوٹو سوشل میڈیا

ایران کا یورپ کو جواب: ارکانِ پارلیمنٹ پاسدارانِ انقلاب کی وردیوں میں ایوان میں داخل

تہران: یورپی یونین کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کے متنازع فیصلے نے تہران میں سفارتی و سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایرانی ارکانِ پارلیمنٹ آج مجلسِ شوریٰ کے اجلاس میں پاسدارانِ انقلاب کی فوجی وردیاں پہن کر شریک ہوئے، جس سے ایوان کا منظر کسی فوجی چھاؤنی جیسا نظر آنے لگا۔

"پاسدارانِ انقلاب محافظ ہیں” – ایوان میں بینرز اور نعرے بازی

تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، پارلیمنٹ کے پریزیڈیم پوڈیم پر ایک بڑا بینر آویزاں کیا گیا تھا جس پر تحریر تھا کہ "پاسدارانِ انقلاب دنیا کی سب سے بڑی انسدادِ دہشت گردی تنظیم ہے”۔ اجلاس کے دوران ارکانِ پارلیمنٹ نے "یورپ مردہ باد” اور "شیم آن یورپ” کے پرجوش نعرے لگائے۔

ایران

یورپی افواج کو بھی دہشت گرد قرار دینے کی دھمکی

ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے عوامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یورپی یونین کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ:”اگر پاسدارانِ انقلاب کے خلاف کوئی بھی کارروائی کی گئی تو جوابی قانون کے آرٹیکل 7 کے تحت یورپی ممالک کی افواج کو ایران کی جانب سے دہشت گرد گروہ تصور کیا جائے گا۔ اس جارحانہ اقدام کے بعد پیدا ہونے والے کسی بھی سنگین صورتحال کی تمام تر ذمہ داری یورپی یونین پر عائد ہوگی۔”

"یورپ نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار لی”

باقر قالیباف کا مزید کہنا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب وہ قوت ہے جس نے یورپ کو دہشت گردی کی لہر سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک نے اس فورس کو نشانہ بنا کر اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے جو خطے اور دنیا میں امن کی ضامن تھی۔

پسِ منظر

واضح رہے کہ یورپی یونین نے 29 جنوری کو ایران میں حالیہ احتجاجی تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن کو جواز بنا کر پاسدارانِ انقلاب کو بلیک لسٹ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ یورپی یونین نے کسی خود مختار ملک کے سرکاری عسکری ادارے کو دہشت گرد قرار دیا ہو۔ ایران کی جانب سے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔