فوٹو سوشل میڈیا
فوٹو سوشل میڈیا

میانمار کے سب سے طاقتور جرائم پیشہ خاندانوں کا عبرتناک انجام

بیجنگ: چینی حکام نے شمالی میانمار میں آن لائن دھوکہ دہی اور منظم جرائم میں ملوث ‘منگ’ خاندان کے 11 ارکان کی سزائے موت پر عملدرآمد کر دیا ہے۔ ان افراد کو گزشتہ سال ستمبر میں عدالت نے سنگین جرائم کے جرم میں یہ سزا سنائی تھی۔

یہ خاندان طویل عرصے سے میانمار کے سرحدی علاقے ‘لاوکہینگ’ پر قابض تھا اور اسے میانمار کی فوجی حکومت کی حمایت حاصل تھی۔ ان پر الزام تھا کہ یہ بڑے پیمانے پر آن لائن اسکیم سینٹرز (دھوکہ دہی کے مراکز) چلاتے تھے جہاں چینی شہریوں کو قید رکھ کر ان سے جبراً کام کروایا جاتا تھا۔ اکتوبر 2023 میں ایک مرکز سے فرار کی کوشش کے دوران کئی چینی شہریوں کے قتل کے بعد چین نے اس گروہ کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کیا۔

کارروائی کے دوران میانمار کے چار بڑے اثر و رسوخ رکھنے والے خاندانوں (منگ، باؤ، وی اور لیو) کے 60 سے زائد افراد کو گرفتار کر کے چینی پولیس کے حوالے کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق اس گروہ کے سربراہ منگ شوئے چانگ نے گرفتاری کے بعد خودکشی کر لی تھی۔ اب تک منگ خاندان کے افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے جبکہ دیگر خاندانوں کے مقدمات ابھی زیرِ سماعت ہیں۔

چین نے اس معاملے میں تھائی لینڈ اور کمبوڈیا پر بھی دباؤ ڈالا ہے تاکہ وہاں سے بھی بڑے جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا جا سکے۔ اگرچہ سرحدی علاقوں میں بہت سے اسکیم سینٹرز بند کر دیے گئے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کاروبار اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا بلکہ میانمار اور کمبوڈیا کے دیگر علاقوں میں منتقل ہو رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔