وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان کے جغرافیے کی وجہ سے وہاں پر بڑے پیمانے پر فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کی ضرورت ہے۔
قومی اسمبلی میں اظہارخیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے سختی کی، چمن بارڈر پر ایک بہت بڑا احتجاج بھی ہوا، لوگ کہتے ہیں نیشنلسٹ تحریکوں کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کی سیاسی نہ قوم پرست شناخت ہے، بنیادی طور پر کاروباری نقصانات کے ازالے کیلئے تحریک چلائی جا رہی ہے، یہ لوگ یومیہ تیل کی اسمگلنگ سے 4 ارب روپے کما رہے تھے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ’بی ایل اے کے نام پر جرائم پیشہ لوگ ان اسمگلرز کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں، بلوچستان میں قبائلی عمائدین، بیوروکریسی اور علیحدگی پسند تحریک چلانے والوں کا گٹھ جوڑ بن چکا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ دور روز کے دوران 177دہشتگرد مارے گئے، 16سیکورٹی فورسز اور 33عام شہری شہید ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے جغرافیے کی وجہ سے وہاں پر بڑے پیمانے پر فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کی ضرورت ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بلوچستان میں آج 15ہزار 96 اسکولز ہیں، بلوچستان میں 13کیڈٹ کالجز ہیں، آج بلوچستان میں 13بڑے ہسپتال ہیں، بلوچستان میں احساس محرومی کا بیانیہ بنایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا این ایف سی شیئر 933 ارب ہے، ایرانی تیل کے پمپ کوئٹہ کے وسط میں پایا جاتا ہے، سرداری نظام نے بلوچستان کے تمام وسائل کو لوٹا۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان جتنے ایئرپورٹ کسی صوبے میں نہیں ہیں، جو ایئرپورٹس آپریشنل نہیں ان کو آپریشنل کر رہے ہیں، جو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں ان کا نام مسنگ پرسنز لسٹ میں ہے، مسنگ پرسنز باہر بیٹھے ہیں اور ان کے خاندان پیسے لے رہے ہیں، اتنے بڑے صوبے کو مینیج کرنا بہت بڑا ٹاسک ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ بلوچستان میں متعدد آپریشنز ہوئے، بلوچستان میں آج بھارتی پراکسیزکام کررہی ہیں، بلوچستان سمیت جب بھی بلدیاتی نظام آیا ہے اس نے ترقی دی ہے، تقسیم پاکستان کے وقت جتنی بلوچستان میں ترقی تھی، آج تعلیمی اداروں ہسپتالوں سمیت سب کچھ کئی گنا بڑھ چکی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ کرپشن دیمک ہے جو بلوچستان تمام صوبوں اور مرکز میں ہے، کرپشن کے خاتمے کے لئے قومی یک جہتی کی ضرورت ہے، بلوچستان میں ترقی روکنے کے لئے بلیک میلنگ کی جاتی رہی ہے، سرداری نظام نے بلوچستان کو ترقی نہیں ہونے دی، کچھ عرصہ قبل میں نے لاپتہ افراد کے اعدادوشمار لئے تھے جو سات سو سے ساڑھے سات سو تھے۔
انہوں نے کہا کہ کلبوشن کہاں سے پکڑا گیا، بلوچستان اتنا بڑا علاقہ ہے اسے کنٹرول کرنا بہت ہی مشکل ہے، بلوچستان میں لڑنے والوں کے پاس وہ اسلحہ ہے جو سیکیورٹی فورسز کے پاس بھی نہیں، کوئی بتا سکتا ہے اتنا جدید ترین اسلحہ کہاں سے آرہا ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos