اعلیٰ امریکی اور ایرانی حکام جوہری مذاکرات کے لیے جمعے کو استنبول ،ترکی ہمیں ملاقات کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔نشریاتی ادارے سی این این کا تین ذرائع کے حوالے سے کہناہے کہ ایک امریکی اہلکار، ایک علاقائی ذریعے اور اس معاملے سے واقف ایک دوسرے ذریعے کے مطابق، امریکی نمائندہ خصوصی سٹیو وٹ کوف اور جیرڈ کشنر کی جمعہ کو استنبول میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات متوقع ہے۔ٹائمزآف اسرائیل نے ایک امریکی ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاہے کہ اسرائیل کے دورے سے واپسی پر، وٹ کوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جمعے کو استنبول میں ممکنہ جوہری معاہدے اور دیگر امور پر بات چیت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔صدر ان سے معاہدہ کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ میٹنگ یہ سننے کے لیے ہے کہ ان کا کیا کہنا ہے۔
ترکی، قطر اور مصر اس ملاقات کے انتظامات کے لیے کام کر رہے ہیں۔سی این این کے مطابق ،مصر، عمان، پاکستان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کی بھی شرکت متوقع ہے۔
یہ واضح نہیں کہ فریقین براہ راست یا بالواسطہ ملاقات کریں گے ۔ امریکہ نے ایران کو براہ راست مذاکرات میں شامل کرنے پر زور دیا ہے۔ادھرامریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہےکہ اگرایران جوہری مذاکرات میں شامل نہیں ہوتاتو امریکی فوج ایران کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ی سے زیادہ آگے ہے۔ان کا کہناتھاکہ صدر شروع سے ہی واضح ہیں، جیسا کہ وہ مڈ نائٹ ہیمر سے پہلے تھے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت نہیں رکھے گا۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ایران میں حکومت کی تبدیلی کا امکان ہے، ہیگستھ نے اس سوال کو ٹال دیا اور کہا کہ ایران کے پاس اختیار ہے کہ وہ اپنی جوہری صلاحیتوں پر بات چیت کرنا چاہتاہے یا نہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ،اگرچہ یہ میٹنگ جمعہ کو ہونے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، تاہم ذرائع نے خبردار کیا کہ اس میں تاخیر یا منسوخی ہوسکتی ہے۔ پچھلے سال، امریکہ اور ایران کے جوہری مذاکرات 12 روزہ جنگ کے باعث منعقد ہونے سے رہ گئے تھے، جس دوران اسرائیل اور امریکہ دونوں نے ایران پر فوجی حملے کیے تھے۔
امریکی خبررساں ادارے ایگزیوس نے کہا ہے کہ منصوبہ بندی سے واقف ایک ذریعے کے مطابق جمعہ کی ملاقات بہترین صورت حال ہوگی لیکن خبردار کیا کہ جب تک ایسا نہیں ہوتا کچھ بھی حتمی نہیں ۔گزشتہ جون میں مذاکرات کے خاتمے اور 12 روزہ جنگ کے بعد امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان یہ پہلی ملاقات ہو گی۔
ممکنہ مذاکرات کے بارے میں تفصیلات بتائے بغیر، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہاہے کہ خطے کے ممالک پیغامات کے تبادلے میں ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔کئی نکات پر توجہ دی گئی ہے اور ہم سفارتی عمل میں ہر مرحلے کی تفصیلات کا جائزہ لے رہے ہیں اور ان کو حتمی شکل دے رہے ہیں، جو ہمیں آنے والے دنوں میں مکمل کرنے کی امید ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos