ایپسٹین کیس:بل اور ہلیری کلنٹن کانگریس تحقیقات میں گواہی دینے پر تیار

امریکا کے سابق صدر بل کلنٹن اور سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے جیفری ایپسٹین کیس سے متعلق امریکی ایوانِ نمائندگان کی تحقیقات میں گواہی دینے کی آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایوانِ نمائندگان چند دنوں میں دونوں کے خلاف توہینِ کانگریس کی کارروائی پر ووٹنگ کرنے والا تھا۔ اس ووٹنگ کے نتیجے میں کلنٹن جوڑے کو جرمانے یا حتیٰ کہ قید کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا تھا۔

یہ پیش رفت بل اور ہلیری کلنٹن اور ہاؤس اوور سائٹ کمیٹی کے چیئرمین ریپبلکن رکن جیمز کومر کے درمیان جاری کشیدگی کے بعد سامنے آئی۔ کمیٹی نے کہا کہ دونوں کلنٹن کو حلفیہ بیان کے تحت پیش ہونا ہوگا تاکہ جاری کردہ سمن کی تکمیل ہو سکے۔

کلنٹن کے ترجمان نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے نیک نیتی سے مذاکرات کیے اور تحقیقات میں مکمل تعاون کے لیے تیار ہیں، جبکہ جیمز کومر نے واضح کیا کہ سمن کی شرائط طے کرنے کا اختیار کانگریس کے پاس ہے، نہ کہ گواہی دینے والوں کے۔

واضح رہے کہ بل کلنٹن کا سماجی تعلق امریکی سرمایہ کار اور جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین سے رہا ہے، تاہم ان پر کسی قسم کی غیرقانونی سرگرمی کا الزام نہیں ہے۔

یہ معاملہ اس وقت دوبارہ خبروں میں آیا جب امریکی محکمۂ انصاف نے ایپسٹین سے متعلق لاکھوں فائلیں اور ویڈیوز جاری کیں، جس کے بعد شفافیت اور احتساب کے مطالبات میں شدت آ گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔