امریکی حکام کی تحقیقات میں بھارت میں بڑے پیمانے پر ہونے والے منظم سائبر فراڈ کا انکشاف ہوا ہے، جس میں بھارتی کال سینٹرز ملوث پائے گئے ہیں۔
امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ کے مطابق میری لینڈ میں کروڑوں ڈالر کے مالی فراڈ کی تحقیقات کے دوران بھارت سے چلنے والے ایک منظم فراڈ نیٹ ورک کا سراغ ملا، جس میں تین کال سینٹرز نے 650 سے زائد امریکی شہریوں کو نشانہ بنایا اور انہیں مجموعی طور پر 48 ملین ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچایا۔
تفتیش کے مطابق کال سینٹرز سے وابستہ افراد خود کو امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا نمائندہ ظاہر کرتے اور جعلی ای میلز، فون کالز اور پاپ اپ پیغامات کے ذریعے شہریوں کو خوفزدہ کر کے رقم وصول کرتے تھے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بھارتی ایجنسیوں نے امریکی حکام کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے فراڈ نیٹ ورک کے چھ سرغنہ گرفتار کر لیے اور بڑی مقدار میں الیکٹرانک سازوسامان ضبط کر لیا گیا۔ ایف بی آئی کے خصوصی ایجنٹ جمی پال نے بھی بھارت میں قائم تین کال سینٹرز سے منسلک فراڈ نیٹ ورک کے خاتمے کی تصدیق کی۔
بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی ریاستی اداروں کی جعلی شناخت کا استعمال انتظامی خامیوں اور نگرانی کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بھارت میں حالیہ منظم سائبر فراڈ کے واقعات کمزور ضابطہ کاری اور ادارہ جاتی خامیوں کو بے نقاب کرتے ہیں، جو عالمی سطح پر تشویش کا باعث ہیں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos