جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملے جاری ہیں، جن میں دو نومولود بچوں سمیت کم از کم 24 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق حملوں میں خواتین، بچوں اور ایک ڈیوٹی پر موجود طبی اہلکار کی بھی جان گئی۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں تین عسکری رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا اور بعض کارروائیاں اس وقت کی گئیں جب غزہ میں موجود فوجیوں پر فائرنگ ہوئی، جس میں ایک اسرائیلی ریزرو فوجی شدید زخمی ہوا۔
غزہ کے شمالی علاقے طفاح میں ایک عمارت پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے کم از کم 11 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔ اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ نے کہا کہ زمینی صورتحال سے ایسا لگتا ہے کہ جنگ رکی نہیں ہے۔
خان یونس کے المواسی علاقے میں بدھ کے روز ایک خیمے کو نشانہ بنایا گیا، جس میں کم از کم تین افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے، جن میں ایک پیرا میڈک بھی شامل تھا۔ غزہ سٹی کے الشاطی پناہ گزین کیمپ میں ایک شخص جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔ مجموعی طور پر بدھ کے روز ہونے والے حملوں میں کم از کم 38 افراد زخمی ہوئے۔
اکتوبر 2025 میں نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود وقفے وقفے سے ہونے والے حملوں نے سیزفائر کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ غزہ کے صحت حکام کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 556 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں نصف سے زائد خواتین اور بچے شامل ہیں، جبکہ اسرائیل کے مطابق اس دوران اس کے چار فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
رفح بارڈر کراسنگ پر آمد و رفت محدود رہی، جہاں مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اگرچہ انسانی امداد میں کچھ اضافہ ہوا ہے، تاہم سیزفائر معاہدے کے کئی اہم نکات، جن میں غزہ کی تعمیر نو اور بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کی تعیناتی شامل ہے، ابھی تعطل کا شکار ہیں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos