پاکستان ازبکستان کے درمیان 29 معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط
دونوں ممالک نے دو طرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا ۔
اسلام آباد: پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مختلف تجارتی اور معاشی معاہدوں پر دستخط ہوگئے، دونوں ممالک نے دو طرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔
ازبکستان کے صدر دورزہ دورے پر اسلام آباد نور خان ایئر بیس پہنچے، پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے چھ رکنی دستے نے صدر شوکت مرزائیوف کو پاکستانی فضائی حدود میں سلامی پیش کی مہمان نوازی، معزز مہمان کے طیارے کو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی فضائی حصار میں لیا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نور خان ایئر بیس پر ازبکستان کے صدر کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر معزز مہمان کو توپوں کی سلامی بھی پیش کی گئی جب کہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان بھی استقبال کے موقع پر موجود تھے۔
شوکت مرزائیوف کا وزیراعظم ہاؤس آمد پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے معزز مہمان کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا اور خوشگوار جملوں کا تبادلہ ہوا۔
وزیراعظم ہاؤس میں ازبکستان کے صدر کے اعزاز میں باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے آغاز پر پاکستان اور ازبکستان کے قومی ترانے بجائے گئے، جبکہ مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے صدر شوکت مرزائیوف کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ ازبکستان کے صدر نے گارڈ آف آنر کا معائنہ بھی کیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنی کابینہ کے ارکان کو ازبکستان کے صدر سے متعارف کرایا، جبکہ صدر شوکت مرزائیوف نے اپنے وفد کے ارکان کا وزیراعظم سے تعارف کرایا۔ صدر شوکت مرزائیوف کے ہمراہ اعلیٰ سطح وفد بھی پاکستان پہنچا ہے جس میں وفاقی کابینہ کے سینئر وزرا اور کاروباری شخصیات شامل ہیں۔
اس موقع پر دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور تجارت، توانائی، دفاع، تعلیم، عوامی روابط اور علاقائی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے نئی راہیں تلاش کی گئیں۔
ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف کا یہ پاکستان کا دوسرا دورہ ہے جو پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مثبت پیش رفت اور برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات مشترکہ تاریخ، مشترکہ عقیدے اور وسطی و جنوبی ایشیا میں امن و خوشحالی کی مشترکہ امنگوں پر مبنی ہیں۔