14 سال بعد عراق کی شام کے راستے تیل برآمدات دوبارہ شروع

قافلہ بحیرہ روم کے ساحل پر واقع بانیاس ریفائنری کی جانب رواں دواں ہے

               
  May 3, 2026 · بام دنیا

عراق نے 14 سال بعد پہلی مرتبہ شام کے الیعروبیت بارڈر کراسنگ کے راستے تیل برآمد کرنا شروع کر دیا ہے، جہاں 70 خام تیل ٹینکروں کا قافلہ داخل ہوا۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ قافلہ بحیرہ روم کے ساحل پر واقع بانیاس ریفائنری کی جانب روانہ ہے۔
شامی حکام کے مطابق اس سرحدی راستے کو 14 سال بعد دوبارہ کھولنا عراق اور شام کے درمیان معاشی تعلقات کو فروغ دینے کی ایک اسٹریٹجک پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے تجارتی اور توانائی کی ترسیل میں بہتری آئے گی اور دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی شراکت داری کی راہ ہموار ہوگی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عراق آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل برآمدات کے لیے متبادل راستے تلاش کر رہا ہے۔
یہ سرحدی گزرگاہ 2011 میں شام کی خانہ جنگی کے بعد بند کر دی گئی تھی، بعد ازاں 2014 میں داعش نے اس پر قبضہ کر لیا تھا، جسے بعد میں عراقی کرد فورسز نے دوبارہ حاصل کیا۔