امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ٓاج جمعہ کو مسقط میں ہو شروع ہو گئے ہیں۔ بات چیت سے پہلے وائٹ ہاؤس نے ایران کو ایک نئی دھمکی دی ہے۔
یہ اہم مذاکرات خلیجی ملک عمان کے شہر مسقط میں ہورہے ہیں جن میں ایران کی نمائندگی عباس عراقچی کر رہے ہیں جب کہ امریکہ کی طرف سے اسٹیو وٹکوف مذاکرات کار ہیں۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی بات چیت میں شریک ہیں
ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے امریکا کےساتھ مذاکرات سے قبل باہمی احترام پر زوردیا،کہا ہےکہ ہم نے دیانت داری سے سفارت کاری کے لیے قدم بڑھایا ہے۔
اس سے پہلے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عمان میں جمعے کے روز ہونے والے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی پیش رفت کی براہِ راست نگرانی کریں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے یا نہیں۔
صحافیوں سے گفتگو میں کیرولین لیویٹ کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے لیے سفارت کاری ہمیشہ پہلا آپشن رہی ہے، چاہے معاملہ اتحادی ممالک کا ہو یا مخالفین کا۔ ان کے مطابق، “دنیا بھر کے ممالک سے معاملات طے کرنے کے لیے سفارت کاری صدر کا اولین انتخاب ہے۔”
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے بتایا کہ صدر ٹرمپ مذاکرات کے نتائج سننے کے منتظر ہیں اور آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ اسی بنیاد پر کیا جائے گا۔
کیرولین لیویٹ نے واضح کیا کہ ایران کی جوہری صلاحیت کے حوالے سے امریکی صدر کے مطالبات بالکل واضح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات سے قبل ایرانی حکومت کو یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ دنیا کی سب سے طاقتور فوج کے کمانڈر انچیف کے طور پر صدر ٹرمپ کے پاس سفارت کاری کے علاوہ دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔
اس سے قبل ایران اور امریکہ کے جوہری مذاکرات جمعے ہی کو ترکیے میں شیڈول تھے، تاہم ایران کی جانب سے مذاکرات کا مقام استنبول سے عمان منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
امریکہ نے پاکستان کو بھی مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی تھی، تاہم ایران نے مقام کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ علاقائی شراکت داروں کو مذاکرات میں شامل نہ کرنے اور بات چیت کو صرف جوہری معاملات تک محدود رکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان مطالبات کو تسلیم یا مسترد کیے جانے سے متعلق تاحال کوئی باضابطہ تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos