لاہور: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاک بھارت میچ کے بائیکاٹ نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ براڈکاسٹرز اور اسپانسرز بھی مالی نقصان کے خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا آغاز ہو چکا ہے اور پاکستان نے بنگلہ دیش کو ایونٹ سے باہر کیے جانے پر اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے 15 فروری کو شیڈول پاک بھارت میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ کرکٹ شائقین اور تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی آئی سی سی ٹورنامنٹ میں پاک بھارت مقابلہ سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا اور سب سے زیادہ آمدن دینے والا میچ تصور کیا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی سی سی کی سالانہ آمدنی تقریباً 408 ملین ڈالر ہے، جس کا قریباً 65 فیصد حصہ صرف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے حاصل ہوتا ہے۔ آئی سی سی کی چار سالہ ریونیو سائیکل میں یہ ایونٹ 32.5 فیصد حصہ رکھتا ہے، اور اگر سب سے بڑا اور منافع بخش میچ ہی نہ ہوا تو پورے ٹورنامنٹ کی کمرشل ویلیو متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
موجودہ ریونیو ماڈل کے تحت بھارت کو 230 ملین ڈالر جبکہ پاکستان کو 34.5 ملین ڈالر ملتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کے بائیکاٹ کے فیصلے سے نہ صرف آئی سی سی بلکہ بھارتی کرکٹ بورڈ کو بھی بھاری مالی نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اس فیصلے نے کرکٹ کی عالمی سیاست میں برابری اور اصولی مؤقف کو اجاگر کیا ہے، جبکہ یہ بھی واضح پیغام دیا گیا ہے کہ کرکٹ میں یکطرفہ فیصلے اور اجارہ داری اب قابل قبول نہیں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos