ڈھاکہ:جے آئی امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن کا قومی ٹی وی پر انتخابی خطاب

بنگلہ دیش میں تیرہویں پارلیمانی انتخابات سے قبل جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن نے منگل کی شام بنگلہ دیش قومی ٹیلی ویژن (بی ٹی وی) اور بنگلہ دیش بیتار کے ذریعے قوم سے تفصیلی انتخابی خطاب کیا۔ خطاب میں انہوں نے ملک میں بنیادی تبدیلی، نوجوان قیادت اور انصاف پر مبنی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔

ڈاکٹر شفیق الرحمن نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ماضی کی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے ایک نئے بنگلہ دیش کے قیام کے لیے اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو تقسیم اور نفرت کی سیاست سے نکال کر عزت، انصاف اور مساوات پر مبنی ریاست بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر جماعتِ اسلامی کو اقتدار ملا تو حکومت کے پہلے دن سے اصلاحاتی اقدامات کا آغاز کیا جائے گا۔

انہوں نے نوجوانوں کو ملک کا مستقبل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب قیادت نوجوانوں کے ہاتھ میں دی جائے گی اور سیاسی قیادت معاون کردار ادا کرے گی۔ ان کے مطابق بنگلہ دیش کی ترقی کا دارومدار نوجوانوں کی صلاحیتوں پر ہے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے 1971 کے شہداء اور حالیہ سیاسی جدوجہد کے دوران جان دینے والے نوجوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ انہی قربانیوں نے نئی نسل کو تبدیلی کے لیے تیار کیا ہے۔

انتخابی منشور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے پانچ بنیادی اصول پیش کیے جن میں ایمانداری، اتحاد، انصاف، کارکردگی اور روزگار شامل ہیں، جبکہ بدعنوانی، فسطائیت، بالادستی، بے روزگاری اور بھتہ خوری کی سختی سے مخالفت کا اعلان کیا۔

خواتین کے حقوق کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ خواتین کو سماجی، معاشی اور سیاسی میدان میں مکمل تحفظ اور مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ باوقار انداز میں قومی ترقی میں کردار ادا کر سکیں۔

ریاستی اصلاحات کے لیے تعلیم، عدلیہ اور معیشت کو مرکزی ستون قرار دیتے ہوئے انہوں نے تعلیمی نظام کو جدید اور ہنر پر مبنی بنانے، عدلیہ کی مکمل آزادی اور معاشی شعبوں میں جامع اصلاحات کا وعدہ کیا۔

اقلیتوں اور مذہبی طبقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش تمام مذاہب کے ماننے والوں کا مشترکہ وطن ہے، جہاں ہر شہری کو مساوی حقوق اور تحفظ حاصل ہوگا۔ علمائے کرام کو قومی پالیسی سازی میں شامل کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔

خارجہ پالیسی پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر شفیق الرحمن نے کہا کہ بنگلہ دیش تمام ممالک کے ساتھ برابری، خودمختاری اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات قائم کرے گا۔ انہوں نے اقتدار کو امانت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکمرانی کا مقصد عوامی خدمت ہے، نہ کہ ذاتی فائدہ۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ 12 فروری کو ترازو کے انتخابی نشان پر مہر لگا کر 11 جماعتی اتحاد کے امیدواروں کو کامیاب کرائیں اور ایک نئے، پرامن اور باوقار بنگلہ دیش کی بنیاد رکھیں۔

اگر آپ چاہیں تو میں اس خبر کی مختصر سرخی، بریکنگ نیوز، یا ہیش ٹیگز بھی تیار کر سکتا ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔