ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے 13ویں میچ میں آج افغانستان کا مقابلہ جنوبی افریقہ سے ہو رہا ہے۔ افغانستان نے گزشتہ ایڈیشن 2024 میں سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر کے سب کو حیران کیا تھا، لیکن اس بار آغاز ہی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ پہلے میچ میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں پانچ وکٹ سے شکست کے بعد افغان ٹیم کو اب ڈو یا ڈائی کی صورتحال کا سامنا ہے۔
آج اگر افغانستان جنوبی افریقہ کے خلاف میچ ہارتا ہے تو ممکنہ فتوحات کینیڈا اور متحدہ عرب امارات کے خلاف بھی اسے سپر ایٹ مرحلے تک نہیں پہنچا سکیں گی۔ ماضی میں دونوں ٹیمیں تین مرتبہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں آمنے سامنے آئی ہیں اور ہر بار کامیابی جنوبی افریقہ کے حصے میں رہی ہے۔ سال 2024 میں افغانستان کو جنوبی افریقہ کے ہاتھوں 56 رنز پر آؤٹ ہونے کی تلخ یادیں اب بھی تازہ ہیں، جب جنوبی افریقہ نے ہدف محض ایک وکٹ کے نقصان پر نویں اوور میں حاصل کر لیا تھا۔
دوسری جانب جنوبی افریقہ کی ٹیم کینیڈا کے خلاف شاندار فتح کے بعد بھرپور اعتماد کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ کپتان ایڈن مارکرم کی نصف سنچری اور ڈیوڈ ملر و ٹرسٹن اسٹبس کے درمیان ناقابلِ شکست 75 رنز کی شراکت داری، جس نے ٹورنامنٹ کا اب تک کا سب سے بڑا مجموعہ بنایا، جنوبی افریقہ کی مضبوط فارم کا ثبوت ہے۔ فاسٹ بولر لنگی اینگیڈی کی چار وکٹیں اس کارکردگی پر مزید روشنی ڈالتی ہیں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos