بنگلہ دیش کے مستقبل کے ممکنہ وزیرِ اعظم طارق رحمان کون ہیں

پاکستان اور بنگلہ دیش کے سیاسی منظرنامے میں ایک اہم کردار ادا کرنے والے طارق رحمان بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین اور ملک کے ممکنہ اگلے وزیرِ اعظم ہیں، جن کی واپسی اور سیاسی عروج نے حالیہ انتخابات کو تاریخی موڑ دے دیا ہے۔

طارق رحمان 20 نومبر 1965 کو ڈھاکہ میں پیدا ہوئے، اور وہ سابق صدر ضیا الرحمان اور سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیا کے بڑے بیٹے ہیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم بی اے ایف شاہین کالج، ڈھاکہ سے حاصل کی اور پھر ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں داخلہ لیا۔

1988 میں انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز بی این پی کے گابٹالی یونٹ سے کیا اور جلد ہی پارٹی کے اندر اپنی موجودگی مضبوط بنائی۔ وہ 2002 میں بی این پی کے سینیئر جوائنٹ سیکریٹری جنرل اور بعد میں 2009 میں سینیئر وائس چیئرمین مقرر ہوئے۔

سنہ 2007 میں جب فوجی حامی نگران حکومت نے اقتدار سنبھالا، طارق رحمان کو کرپشن اور دیگر الزامات پر گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے 18 ماہ جیل میں گزارے اور ستمبر 2008 میں رہا ہوئے، جس کے بعد وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ لندن منتقل ہو گئے۔

لندن میں طارق رحمان نے بی این پی کی قیادت از دور سنبھالی اور پارٹی کو متحد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، خاص طور پر اس وقت جب ان کی والدہ خالدہ ضیا کو 2018 میں کرپشن کیس میں قید کی سزا سنائی گئی۔

تقریباً 17 سال بعد، طارق رحمان ڈھاکہ 25 دسمبر 2025 کو واپس لوٹے، جہاں انہیں زوردار سیاسی استقبال ملا۔ اپنے وطن واپسی کے چند دن بعد، 9 جنوری 2026 کو بی این پی کی نیشنل اسٹینڈنگ کمیٹی نے انہیں باضابطہ طور پر پارٹی کا چیئرمین مقرر کیا۔

ان کے منتظمین اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کا بی این پی کی قیادت سنبھالنا ایک ناگزیر فیصلہ تھا کیونکہ وہ پچھلے کئی سالوں سے پارٹی کی عملی قیادت کر رہے تھے۔

سیاسی عروج اور انتخابات

اب طارق رحمان بنگلہ دیش کے ممکنہ وزیرِ اعظم کے طور پر ابھر رہے ہیں، خاص طور پر فروری 2026 کے عام انتخابات کے بعد جب بی این پی نے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کی اور ان کی پارٹی جیت کی طرف گامزن ہے۔

ان کی قیادت میں بی این پی نے بڑے پیمانے پر انتخابی مہم چلائی، جس میں ان کی بیٹی اور اہلیہ بھی سرگرم نظر آئیں۔

طارق رحمان پر ماضی میں کرپشن اور طاقت کے غیر رسمی استعمال کے الزامات لگے، خاص طور پر 2001–06 کے دوران، جب وہ اپنی والدہ کی حکومت کے دوران پارٹی کے اندر ایک متوازی طاقت کے مرکز بنے۔ ان الزامات اور مقدمات کے بارے میں ان کی جماعت نے ہمیشہ تردید کی ہے۔

ایک سیاسی ورثے کے وارث کے طور پر، طارق رحمان نے اپنی جماعت کو مشکل حالات میں متحد رکھا اور بیرونِ ملک قیادت کرتے ہوئے پارٹی کی حکمتِ عملی کو نئی شکل دی۔ ان کی واپسی اور قیادت نے بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک نئے دور کے آغاز کی نشاندہی کی ہے، جس کے تحت وہ ملک کے اگلے وزیرِ اعظم بننے کی راہ پر گامزن ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔