جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے ووٹوں کی گنتی کے دوران دھاندلی کا الزام لگادیا

 

بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے الزام عائد کیا ہے کہ 13ویں پارلیمانی انتخابات میں پولنگ تو منصفانہ تھی لیکن ووٹوں کی گنتی کے دوران "بے ضابطگیوں اور دھاندلی”کے ذریعے نتائج تبدیل کر دیے گئے۔انہوں نے یہ الزام جمعہ کی رات ڈھاکہ میں واقع پارٹی کے مرکزی دفتر میں 11 پارٹی انتخابی اتحاد کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس میں عائد کیا۔ اخبار” ڈیلی اسٹار ” ڈھاکہ کے مطابق ،پریس کانفرنس میں جماعت کے سربراہ نے ملک کے مختلف حصوں میں 11 پارٹی اتحاد کے رہنمائوں، کارکنوں، ایجنٹوں اور ووٹروں کے گھروں پر حملوں کا بھی الزام لگایا اور انہیں ”فاشسٹ سرگرمیاں”قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ انتخابات میں فتح اور شکست فطری ہوتی ہے، اور اگر یہ معمول کے مطابق ہوتی ہیں تو لوگ عام طور پر انہیں قبول کر لیتے ہیں۔ لیکن اگر بڑے پیمانے پر امتیازی سلوک یا بے ضابطگی ہوتی ہے تو یہ فطری طور پر سوالات اٹھاتی ہے۔

 

امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا مزید کہنا تھاکہ ایسی غلط کاریوں میں ملوث افراد کو مکمل ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔ جن لوگوں نے انتخابات میں اکثریتی نشستیں حاصل کی ہیں، انہوں نے جس طرح بھی یہ کیا ہے، وہ ہماری سنجیدہ نظر اور اعتراض کا موضوع ہیں۔ بنیادی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے۔

 

شفیق الرحمان کے مطابق کئی مقامات پر نتائج کے اعلان کے دوران اچانک یہ عمل روک دیا گیا۔انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس دستاویزات موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف مقامات پر نتیجہ شیٹس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی۔ کچھ حلقوں میں دوہرا معیار اپنایا گیا۔نصیر الدین پٹواری کے معاملے میں کیا ہوا – آپ نے دیکھا کہ کس طرح ایک رہنما کے رشتہ دار کی قیادت میں پولنگ اسٹیشنوں پر قبضہ کیا گیا۔ پوری قوم نے اس کا مشاہدہ کیا۔

 

جماعت کے سربراہ نے کہا کہ جن لوگوں کے حقوق زبردستی چھینے گئے ہیں وہ انصاف طلب کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہمیں ایک مقررہ وقت میں انصاف مل جاتا ہے تو یہ ایک بات ہے۔ اگر نہیں ملتا تو ہم اپنا راستہ خود اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ الیکشن کمیشن اچھی رائے قائم کرے گا اور انصاف کو یقینی بنائے گا۔ بصورت دیگر انہیں ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔

 

پریس کانفرنس میں شفیق الرحمان نے یہ بھی الزام لگایا کہ بعض جگہوں پر ”فاشسٹوں”کی بحالی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے انتخابی مہم کے دوران بھی یہ مشاہدہ کیا۔ریفیرنڈم کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اکثریت نے ریفرنڈم کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ اس پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔ ہم اس میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھنا چاہتے۔ ریفرنڈم میں ‘ہاں’ کے ووٹ نے کامیابی حاصل کی ہے۔ جو لوگ حکومت تشکیل دیں گے ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پر عمل درآمد کریں۔

 

پریس کانفرنس میں موجود نیشنل سٹیزن پارٹی کے کنوینر ناہید اسلام نے بھی نتائج میں دھاندلی کا الزام لگایا۔انہوں نے کہاکہ اس الیکشن میں واضح طور پر نتائج میں دھاندلی ہوئی ہے۔ ووٹنگ ایک خاص مرحلے تک منصفانہ طریقے سے ہوئی، جس کا ہم نے خیرمقدم کیا۔ لیکن نتائج کے اعلان کے وقت، کئی مخصوص حلقوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان کے نتائج تبدیل کر دیے گئے۔خاص طور پر ڈھاکہ-8 اور ڈھاکہ-13 حلقوں کے بارے میں ناہید نے کہاکہ پولنگ اسٹیشنوں پر قبضہ کیا گیا اور نتائج تبدیل کرنے کے لیے انتظامیہ کو زبردستی استعمال کیا گیا۔

بنگلہ دیش خلافت مجلس کے امیر اور ڈھاکہ-13 میں 11 پارٹی اتحاد کے امیدوار مولانا مامون الحق نے کہاکہ جس طرح ووٹ ڈالے گئے اور جس طرح ان کی گنتی کی گئی وہ بالکل متضاد ہے۔ بنگلہ دیش کے مستقبل اور عوام کے مینڈیٹ کی سنگین بے حرمتی کی گئی۔ اس کے ذمہ داران کو بنگلہ دیش کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔