امریکہ کے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن نے ایران میں ڈالر کی قلت پیدا کی تاکہ ریال کو گراوٹ میں ڈالا جائے اور سڑکوں پر مظاہرے کیے جائیں۔کانگریس کی سماعت میں ایران کے ساتھ نمٹنے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے، بیسنٹ نے ایرانی کرنسی کو ڈبونے کی امریکی حکمت عملی سے پردہ اٹھایا۔
بیسنٹ نے کہاکہ ہم نے ٹریژری میں جو کچھ کیا ہے اس سے ملک میں ڈالر کی قلت پیدا ہو گئی ،انہوں نے مزید کہا کہ یہ حکمت عملی دسمبر میں پورے عروج پر پہنچی، جب ایران کے سب سے بڑے بینکوں میں سے ایک نیچے چلا گیا، ایرانی کرنسی گر گئی، مہنگائی کا سیلاب آیا، اور اسی وجہ سے، ہم نے ایرانی عوام کو سڑکوں پر نکلتے دیکھا ۔ہم نے ایرانی قیادت کو پاگلوں کی طرح ملک سے پیسہ باہر منتقل کرتے دیکھا ہے، ڈوبتےجہاز کوچھوڑ اجارہاہے، اور یہ ایک اچھی علامت ہے کہ وہ جانتے ہیں انجام قریب ہے۔
گزشتہ ماہ ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پرامریکی ٹی وی سے سے گفتگو کرتے ہوئے، بیسنٹ نے ایران کی احتجاجی لہر میں امریکی پابندیوں کے کردار کی وضاحت کی ۔
انہوں نے کہاتھاکہ صدر ٹرمپ نے وزارتِ خزانہ کو حکم دیا کہ ایران پریادہ سے زیادہ دباؤڈالا جائے، اور یہ حکمت عملی کارگر ثابت ہوئی۔ کیونکہ دسمبر میں ان کی معیشت بیٹھ گئی، وہ اشیاء درآمد کرنے کے قابل نہ رہے، اور یہی وجہ ہے کہ لوگ سڑکوں پر نکلے۔
دونوں مواقع پر بیسنٹ نے گزشتہ سال مارچ میں اکنامک کلب آف نیویارک میں دیئے گئے اپنے ریمارکس کا حوالہ دیا، جہاں انہوں نے کہاتھا کہ وائٹ ہاؤس کس طرح صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم یرانی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔وہاں اپنے خطاب میں بیسنٹ نے کہا تھا کہ امریکہ نے ایران کے برآمدی ڈھانچے کے خلاف پابندیوں کی مہم کو تیز کیا ہے، جس میں ایران کی تیل کی سپلائی چین کے تمام مراحل کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومتی اور نجی شعبے کی بھرپور کوششوںکو شامل کیا گیا ہے تاکہ بین الاقوامی مالیاتی نظام تک ایران کی رسائی کو مکمل طور پر بندکیا جا سکے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos