پاک فوج کے سربراہ اور چیف آف ڈیفنس فورسزفیلڈ مارشل سید عاصم منیر جرمنی پہنچ گئے۔ جہاں وہ عالمی سطح کی اہم ترین 62 ویں میونخ سیکیورٹی کانفرنس 2026 میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ ان کے ہمراہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (ISI) کے ڈائریکٹر جنرل بھی موجود ہیں، جو قومی سلامتی کے مشیر کی ذمہ داری بھی اداکرتے ہیں۔وزیراعظم شہبازشریف اور ان کے ہمراہ وزیردفاع خواجہ آصف بھی کانفرنس میں شریک ہیں۔
عالمی ذرائع ابلاغ کاکہناہے کہ پاکستان کو غزہ بورڈ آف پیس کا رکن ہونے کے ناتے اس کانفرنس میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ جنوبی ایشیا موضوع نہ ہونے کے باوجود ،افغانستان، ایران جیسے تنازعات کے خطے میں واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان کوعالمی سیکیورٹی کانفرنس میں کلیدی حیثیت دی جارہی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہاہے کہ امریکا کو چین کے ساتھ تعلقات رکھنا ہوں گے، تاہم کوئی بھی معاہدہ قومی مفادات کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔جرمنی میں میونخ سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکا اور چین دنیا کی 2 بڑی معیشتیں ہیں اور دونوں پر لازم ہے کہ وہ باہمی رابطہ برقرار رکھیں تاکہ عالمی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
روبیو نے میونخ کانفرنس میں شرکت کے لیے روانگی سے پہلے بیان دیا تھا کہ دنیا جیو پولیٹکس کے ایک نئے دورمیں داخل ہو رہی ہے، جس کے دور رس اثرات یورپ اور نیٹو پر پڑ سکتے ہیں۔اسی تناظر میں کانفرنس کے پہلے روز ایک اہم سیشن ’’ہارڈ کور یورپ: کیا ہم امریکہ کے بغیر اپنا دفاع کر سکتے ہیں؟‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں ماہرین اور حکومتی نمائندوں نے امریکی انحصار کم کرنے کے امکانات پر گفتگو کی۔پینل شرکا نے اعتراف کیا کہ واشنگٹن کے غیر متوقع فیصلے جن میں ایک نیٹو اتحادی کی زمین پر قبضے کی دھمکی بھی شامل ہے، یورپی سلامتی کے لیے ایک چیلنج بن چکے ہیں۔ اسی لیے کئی ممالک یہ غور کر رہے ہیں کہ دفاعی شعبے میں زیادہ خود مختاری کیسے حاصل کی جائے۔
روبیو کا خطاب ان مباحثوں کے فوراً بعد ہوا، جسے یورپی رہنماؤں نے خاص دلچسپی سے سنا۔ ان کا کہنا تھا کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں یورپ اور امریکہ دونوں کو نئی حقیقتوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے میونخ سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روسی رہنما ولادیمیر پوٹن جنگ کے غلام ہیں۔ان کا کہناتھاکہ یوکرین میں کوئی یہ یقین نہیں رکھتا کہ پوٹن کبھی ہمارے لوگوں کو آزاد ہونے دیں گے۔ لیکن وہ دیگر یورپی قوموں کو بھی نہیں چھوڑیں گے، کیونکہ وہ جنگ کے تصور سے خود کو الگ نہیں کر سکتے۔ وہ چاہے خود کو زار سمجھتے ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ جنگ کے نظریے کے غلام ہیں۔
زیلنسکی نےمیونخ سکیورٹی کانفرنس خطاب میں روس کے خلاف جنگ کو یورپ کی دوسری عالمی جنگ کے بعد کی سب سے تباہ کن لڑائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہتھیاروں کی ترقی سیاسی فیصلوں کی رفتار سے کہیں زیادہ تیز ہے۔ زیلنسکی کا کہنا تھاکہ ہتھیار اُس رفتار سے ترقی کر رہے ہیں جو انہیں روکنے کے لیے ضروری سیاسی
فیصلوں سے کہیں تیز ہے۔ انہوں نے خاص طور پر ایران کے تیار کردہ شاہد ڈرونز کا ذکر کیا جو روس کی جانب سے استعمال کیے جا رہے ہیں اور وقت کے ساتھ پہلے سے زیادہ مہلک ہو چکے ہیں۔زیلنسکی نے یورپی اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ اس جنگ کے انجام تک پہنچنے کے لیے فیصلہ کن اور بروقت سیاسی اقدامات کریں، کیونکہ مسلسل تاخیر روسی حملوں کی شدت میں اضافہ کر رہی ہے۔
میونخ سکیورٹی کانفرنس میں اس بار یوکرینی تنازع اور مشرق وسطیٰ سے متعلق امریکی پالیسیوں میں غیرمعمولی تبدیلیوں کے سائے واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔کانفرنس میں شریک 60 عالمی رہنماؤں میں جرمن چانسلر اولاف شولس بھی شامل ہیں، جنہوں نےخبردار کیا تھا کہ امریکہ اور روس کے درمیان کوئی بھی امن مذاکرات، یوکرین اور یورپ کو شامل کیے بغیر ناقابل قبول ہوں گے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے میونخ سکیورٹی کانفرنس (MSC) سے خطاب کیا، جہاں یورپ اور دنیا بھر کے اعلیٰ سیاسی و عسکری رہنما موجود ہیں۔ ان کے اس خطاب کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس وقت یورپی ممالک واشنگٹن کے بدلتے ہوئے رویے کے باعث مستقبل کی سلامتی کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور بعض اوقات اتحادیوں کے لیے سخت رویے نے یورپی ممالک کی تشویش میں مزید اضافہ کیا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے طویل المدتی اتحادوں پر سوال اٹھانے اور بین الاقوامی معاہدوں سے یکطرفہ علیحدگی کے فیصلوں نے یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا یورپ کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی ازسرِ نو ترتیب دینی چاہیے۔
میونخ کانفرنس کا یہ سلسلہ 1963سے جاری ہے۔ یہ کانفرنس ہر سال بعد ہوتی ہے۔ جہاں بین الاقوامی سطح پر درپیش سیکیورٹی چیلنجز کے لیے حل پیش کیے جاتے ہیں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos