’’ عمران رہائی فورس ‘‘ کارکنوں کو گرفتار کرانے کا جال ؟
امت رپورٹ:
تحریک انصاف کے اپنے ہی کارکنوں اور مقامی عہدے داروں کی ایک بڑی تعداد نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی اعلان کردہ ’’عمران خان رہائی فورس‘‘ کو مسترد کردیا ہے۔ اور اسے ٹرک کی نئی بتی سے تعبیر کیا ہے۔ ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ کہیں یہ پارٹی کے کارکنوں کو خود ہی گرفتار کرانے کا کوئی جال تو نہیں؟
دوسری جانب خیبرپختونخوا بند کرنے سے متعلق حالیہ ناکام ترین احتجاج نے انتشار کا شکار پی ٹی آئی کو مزید منتشر کردیا ہے۔ اس ناکامی کا ملبہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے ضلعی عہدیداران’ آئی ایس ایف اور یوتھ ونگ کے متحارب دھڑے ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔ نا صرف ایک دوسرے کو آستین کا سانپ اور غدار قرار دیا جارہا ہے بلکہ پارٹی میں موجود مخالف ناراض دھڑا سہیل آفریدی اور ان کے ہمنواؤں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی دھمکیاں تک دے رہا ہے۔ غرض یہ کہ یہ اندرونی لڑائی اب بند کمروں سے نکل کر سوشل میڈیا پر آچکی ہے۔ چوراہوں پر اپنے گندے کپڑے اس شدت سے دھوئے جارہے ہیں کہ اس کے چھینٹوں نے پارٹی کا چہرہ مزید آلودہ کردیا ہے۔
یہ خیال عام ہے کہ خیبرپختونخوا کے سپر فلاپ شو نے عمران خان کی رہائی کیلئے لئے آخری احتجاجی آپشن کے تابوت میں بھی حتمی کیل ٹھونک دی ہے۔ پارلیمنٹ کے ایوانوں میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ حاصل کرنے کے لیے سب کچھ داؤ پر لگانے والے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کی عزت سادات بھی جاتی دکھائی دے رہی ہے کہ پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے ناراض دھڑے کی جانب سے ان دونوں کی زبردست ٹرولنگ جاری ہے۔ پی ٹی آئی کے اپنے لوگوں کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ پارلیمنٹ اور کے پی ہائوس کے پرسکون ماحول میں پکنک نما احتجاج کرکے کارکنوں کو دھوکا دیا جارہا ہے۔
اس سارے قضیے میں یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اپنے ہی صوبے کے عوام کو دھرنوں کے ذریعے چھ روز تک یرغمال بنانے اور راستوں کی بندش کے سبب ایمبولینسوں میں دم توڑنے والے بیگناہوں کی اموات کے ذمہ داران کے خلاف کون کارروائی کرے گا ؟
واضح رہے کہ عمران خان کی بینائی میں دس فیصد کمی کے معاملے پر سیاست کھیلتے ہوئے پی ٹی آئی خیبرپختونخوا، آئی ایس ایف اور یوتھ ونگ نے خیبرپختونخوا کو پنجاب سے ملانے والے متعدد راستوں کو چھ روز تک بند کئے رکھا۔ ان میں سے اہم ترین خوشحال گڑھ اور صوابی انٹرچینج پر دھرنے بالترتیب سینیٹر خر م ذیشان اور احمد خان نیازی نے اپنے ہمنواؤں کے ساتھ مل کر شروع کرائے۔
جی ٹی اٹک پل روڈ، دخان بھکر، ہزارہ موٹر وے، کوہاٹ پنڈی روڈ سمیت کئی داخلی و خارجی راستوں کو بلاک کیا گیا تھا۔ یوں صوبہ قریباً ایک ہفتے تک ملک کے دیگر حصوں سے کٹا رہا۔ اس دوران معمر افراد، بچوں اور خواتین سمیت خیبرپختونخوا کے عوام نے اپنی زندگی کے تلخ ترین تجربات کا سامنا کیا۔ راستہ نہ ملنے پر مریض ایمبولینسوں میں دم توڑتے رہے۔ دوسرے صوبوں میں روزگار کے لیے جانے والے مزدور رل گئے۔ کوئی اپنے پیاروں کو آخری کندھا نہ دے سکا تو کوئی اپنے عزیز کی شادی میں شریک نہ ہوپایا۔
ان دلخراش واقعات کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر موجود ہیں، کئی مستند صحافیوں نے اسے رپورٹ بھی کیا۔ معروف صحافی ارشد یوسفزئی نے اپنی ایک ایکس پوسٹ میں بتایا ’’پی ٹی آئی کے دھرنوں کے سبب پانچ شدید بیمار مریض اسپتالوں تک نہ پہنچ سکے اور راستے میں دم توڑ گئے‘‘۔ خود پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور ایم این اے شیرعلی ارباب نے خیبر پختونخوا میں سڑکوں کی بندش کے باعث ٹریفک جام میں ایک خاتون کی ہلاکت پر غفلت کی ذمے داری قبول کی ۔ خیبرپختونخوا کے عوام بھی چیخ اٹھے کہ ’’ہم نے اس دن کے لیے ووٹ دے کر صوبے میں تین بار پی ٹی آئی کی حکومت بنوائی‘‘۔
احتجاج کے نام پر بربریت کا یہ سلسلہ شاید جاری رہتا، لیکن پھر پی ٹی آئی کا ایک سابق نظریاتی ضلعی عہدیدار یوسف علی جو اب باغیوں میں شمار ہوتا ہے، وہ اٹھا۔ اس نے خاموشی کے ساتھ اپنے وکیل کے توسط سے پشاور ہائیکورٹ میں اس ظالمانہ احتجاج کے خلاف درخواست دائر کردی۔ اگر چہ اس نوعیت کی دیگر دو درخواستیں نون لیگ کی رہنما ثوبیہ شاہد اور قاف لیگ نے بھی دائر کیں، لیکن پہل یوسف علی نے کی۔
ان کے قریبی دوست نے ’’امت‘‘ کو بتایا کہ یوسف علی پی ٹی آئی صوابی کے سابق جنرل سیکرٹری ہیں، لیکن اب پارٹی کے نظریاتی کارکن کہلاتے ہیں، جنہوں نے قیادت کی غلط پالیسیوں کے خلاف علم بغاوت اٹھا رکھا ہے۔ قصہ مختصر ان کی کاوش پر عدالت حرکت میں آئی۔ آئی جی اور چیف سیکریٹری کو فوری راستے کھلوانے کا حکم دیا۔ انتظامیہ متحرک ہوگئی۔ ساتھ ہی عدالتی احکامات کو لے کر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے فساد کو سختی سے کچلنے کا انتباہ کیا تو جہاں اس فساد کے انجام سے خوفزدہ پی ٹی آئی قیادت کو فیس سیونگ مل گئی، وہیں جان دینے کے نعرے مارنے والے بہت سے شر پسندوں نے رفو چکر ہونے میں عافیت جانی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ صوابی انٹرچینج پر دھرنے کی قیادت کرنے والا احمد خان نیازی بھاگنے والوں میں سب سے آگے تھا۔ باقی انقلابیوں کا خناس پولیس نے نکال دیا۔ سرکاری طور پر بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب کو ملانے والے سرحدی راستوں سے دھرنے ختم کرادیئے گئے ہیں۔ لیکن ان رکاوٹوں کی وجہ سے جن اموات کی اطلاعات زیر گردش ہیں، ان کے ذمہ داروں کو کون کٹہرے میں لائے گا؟ اس کیس کی سماعت کے دوران متعلقہ جج نے کہا کہ ابھی تک یہ معاملہ کوئی عدالت میں نہیں لایا ہے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ دھرنوں کی ناکامی پر خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی، آئی ایس ایف اور یوتھ ونگ مختلف دھڑوں میں تقسیم ہوچکی ہیں۔ ایک دھڑا علی امین گنڈاپور کے حامیوں کا ہے، دوسرا دھڑا سہیل آفریدی کے سپورٹرز پر مشتمل ہے اورتیسرا گروپ وہ ہے جو ان دونوں کو ناکام احتجاج کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔ تینوں کے مابین آن لائن اور آف لائن گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے۔ اس کی مکمل روداد کے لیے ایک پوری کتاب لکھنی پڑے گی۔ لہذا مختصر نمونوں پر اکتفا کیا جارہا ہے۔
مثلاً عمران خان کی پرسنل ٹیم کے ساتھ کام کرنے والے سالار وزیر نے اپنے ہی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ’’سہیل آفریدی لیٹ چکا ہے۔ لہٰذا اسے کیوں کوئی ہٹائے گا۔‘‘ سالار زئی نے خیبرپختونخوا دھرنے ختم کرانے اور اپنے ہی کارکنوں کے خلاف کارروائی کا الزام بھی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کے قریبی ساتھیوں پر ڈالتے ہوئے کہا ’’دھرنے کے دوران پولیس سیدھی ہمارے کیمپ کی طرف آئی۔ شاہد خٹک کے کیمپ کو ہاتھ نہیں لگایا۔ اسی طرح آئی ایس ایف سے وابستہ ایک ٹولے کے کیمپ کو بھی نہیں اکھاڑا۔ صرف ہمارے خلاف کارروائی ہوئی۔
صوبائی حکومت یا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اس واقعے کی مذمت تک نہیں کی۔ میں اس میٹنگ سے واقف ہوں جہاں ڈی سی سوات موجود تھے۔ وہاں مجھ سمیت چند نام پیش کئے گئے، جن میں عبدالواسع ، خرم ذیشان، احمد نیازی اور کمال سلیم سرفہرست تھے تاکہ ان سب کو گرفتار کرایا جاسکے۔
سہیل آفریدی کہتے ہیں کہ میں اچکزئی اور علامہ ناصر عباس سے بات کرکے لائحہ عمل بنائوں گا۔ کیا صوبے میں آئی ایس ایف ، تحریک انصاف اور یوتھ ونگ موجود نہیں۔ دھرنا ختم کرانے کے دوران ہمارے لڑکوں کے ساتھ جو ہوا ، اس کی ایف آئی آر ہم شاہد خٹک ، مینا خان آفریدی ، شفیع جان اور سہیل آفریدی کے خلاف درج کرانے پر غور کر رہے ہیں۔
سالار زئی کے علاوہ باجوڑ سے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی گل ظفر خان نے بھی ایک پوسٹ میں کہا ’’خیبر پختونخوا حکومت کے ذریعے انتظامی معاملات چلانا اپنی جگہ اہم ہے، ان سے حکومت چلانے کا کام لیا جائے۔ لیکن اگر احتجاج کی ذمہ داری علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کی ہے تو پھر وزیراعلیٰ ہائوس سے ’’عمران خان رہائی فورس‘‘ کا اعلان کیوں کروایا گیا‘‘۔
وزیراعلیٰ کی جانب سے ’’عمران خان رہائی فورس‘‘ پر پارٹی کے اپنے لوگوں کی جانب سے شدید تنقید میں اس شک کا اظہار بھی کیا جارہا ہے کہ اس فورس کے لئے لاکھوں نوجوان کارکنوں کا ڈیٹا جمع کرکے ایک کمپیوٹر فائل بنائی جائے گی، تاکہ انہیں گرفتار کرانے کے لئے یہ فہرست قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فراہم کردی جائے۔ ایک اور پارٹی کارکن نے پوسٹ کی کہ ’’چار اکتوبر کے احتجاج کے بعد کہا گیا ہم فائنل کال دیں گے۔‘‘
26 نومبر کے احتجاج کے بعد بیانیہ دیا گیا کہ ہمارے تین سو ستّر بندے مارے گئے ہیں اور اب حالیہ دھرنوں کی ناکامی کے بعد کہا جارہا ہے کہ ’’ہم نے عمران خان کی رہائی کے لئے فورس بنادی ہے۔ یہ سب ڈرامے کارکنوں کو بے وقوف بنانے کے لئے کئے جارہے ہیں۔‘‘ ایک اور کارکن نے پوسٹ کی کہ ’’آستینوں میں یہ سانپ ہم نے خود پالے ہیں۔‘‘